کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 86
أقدامھن ؟ قال :(فیرخینہ ذراعاً لایزدن علیہ)[1] وفی حدیث عائشۃ رضی اللّٰه عنھا :إذاً تخرج سوقھن؟[2]ورواہ أحمد ولفظہ :أن نسائ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم سألنہ عن الذیل ، فقال: (إجعلنہ شبراً ، فقلن :إن شبراً لایستر من عورۃ ، فقال: إجعلنہ ذراعاً وللبزار من حدیث عمررضی اللّٰه عنہ،قال :شبراً، فقلن :شبر قلیل تخرج منہ العورۃ، قال: فذراعاً، قلن تبدو أقدامھن؟ قال: ذراعا لایزدن علی ذلک. ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص متکبرانہ طور سے اپناکپڑا زمین کے ساتھ گھسیٹے گا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا،اس پر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہانے سوال کیا:عورتیں [1] صحیح: مصنف عبدالرزاق(۱۹۹۸۴)الترمذی(۱۷۳۱)النسائی (الصغریٰ۵۳۳۶)بسند نافع عن ابن عمر، (الکبریٰ۹۷۳۵) بسند نافع عن ام سلمۃنسائی(۵۳۳۷)بسند نافع عن ام سلمہ ۔امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ساعاتی (الفتح ربانی: ۱۷؍۲۹۵،۲۹۶)نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔موطا مالک(۲؍۹۱۵) ابوداؤد (۴۱۱۷) نسائی (۵۳۳۸) ابویعلی (۶۸۵۵)ابن حبان(۴۵۵۱)بسند نافع عن صفیہ بنت ابی عبید عن ام سلمۃ۔النسائی(۵۳۳۹)ابن ماجہ (۵۳۸۰) بسند نافع عن سلیمان بن یسار عن ام سلمۃ۔ [2] ضعیف:اس میں ابوالمھزم ضعیف راوی ہے،احمد (الفتح ربانی:۱۷؍۲۹۶) ابن ماجہ(۵۳۸۳) بوصیری (مصباح الزجاجۃ:۱۲۵۳) اور ساعاتی (الفتح) نے ابوالمھزم کی وجہ سے حدیث کو معلول قراردیاہے۔