کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 80
(من تشبہ بقوم فھو منھم)[1] یعنی: جوشخص کسی بھی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمارہوگا۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:جوشخص کسی قوم کا لباس زیب تن کرے گا وہ [1] یہ حدیث حسن ہے،کیونکہ عبدالرحمن بن ثابت میں کچھ کلام ہے۔اس حدیث کے دیگر شواہد بھی ہیں،(دیکھئے نصب الرایۃ۴؍۳۴۷-۳۴۶)اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہےلیکن اس میں بھی کلام ہے۔یہ حدیث احمد۲؍۵۰،ابوداؤد۴۰۳۱،ابن ابی شیبہ ۴؍۵۷۵شعب الایمان للبیھقی ۲؍۷۵اور مشکل الآثار للطحاوی ۱؍۸۸وغیرھم میں موجودہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (الاقتضاء۱؍۲۴۰-۲۴۱ میں فرماتے ہیں اس کی سند جید ہے۔امام احمد وغیرہ رحمہم اللہ نے اس حدیث سے حجت پکڑی ہے،انتہی۔اس حدیثـ کی سند کو امام عراقی (تخریج الاحیاء ۷۹۷مزید دیکھئے ۳۶۳۹)ابن حبان (بلوغ ۴۹۹)ابن حجر(الفتح۱۰؍۲۷۴) بہوتی(الروض، ص: ۱۴۵)اور علامہ البانی(الإرواح:۲۳۸۴)نے صحیح کہا ہے۔ جبکہ سیوطی نے جامع الصغیر (الفیض۶؍۱۰۴) میں حسن کہاہے۔ذھبی نے(السیر:۱۵؍۵۰۹) اسکی سند کو صالح کہا ہے۔ہیثمی فرماتے ہے(مجمع الزوائد۵؍۲۶۷)اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے ، مزید فرماتے ہیں(مجمع ۶؍۴۹)اس حدیث کو احمد نے روایت کیا ہے،اس کی سند میں عبدالرحمن بن ثابت ہے جسے ابن المدینی وغیرہ نے ثقہ کہا ہےجبکہ احمد وغیرہ نے ضعیف کہا ہے اور سند کے بقیہ رواۃ ثقہ ہیں۔انتہی۔ مناوی نے الفیض میں ان محدثین کا ذکر کیا ہےجنہوں نے اس حدیث کوضعیف کہاہے ۔اور انہوں نے خود (التیسیر:۲؍۴۱۰)میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کی سند سے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ابن حجر(الفتح:۶؍۹۸)فرماتے ہیں اس حدیث کا ابن ابی شیبہ میں ایک مرسل شاہد ہے جس کی سند حسن ہے۔صنعانی سبل السلام میں کہتے ہیں اس حدیث کے متعدد شواہد ہے جن سے حدیث کا ضعف جاتارہاہے۔