کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 41
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ہند بنت حارث (جس کے طریق سے یہ حدیث مروی ہے)کی قمیض کی دونوں آستینوں میں،انگلیوں کے درمیان بٹن لگے ہوئے تھے۔ حافظ ابن حجر اس کامطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:چونکہ ان کی قمیض کی آستینیں کافی کشادہ تھیں،لہذا انہیں خدشہ تھا کہ جسم کا کوئی حصہ اس کشادگی کی وجہ سے ظاہر نہ ہو،چنانچہ وہ بٹنوں کے ساتھ آستینوں کو بندکرکے رکھا کرتی تھیں،مبادا اللہ تعالیٰ کی اس وعید (کاسیۃ عاریۃ)کے زمرے میں داخل نہ ہوجائیں۔[1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہی وجہ ہے کہ عورت کو نماز میں اوڑھنی اوڑھے رکھنے کا حکم دیاگیا ہے،البتہ اس کا چہرہ ،دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں ،انہیں اجنبی مردوں کے سامنے کھلا رکھنے سے منع کیاگیاہے،عورتوں اور ذومحرم مردوں کی موجودگی میں کھلارکھنے سے نہیں روکاگیا،جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ( تینوں اعضاء )اس پردہ کے حکم میں نہیں ہیں جسے [1] فتح الباری۱۰؍۳۰۳