کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 34
ہے،(متفضل) اس مرد یا عورت کو کہاجاتاہے جس پر ایک ہی کپڑاہو،اسے( الفضل) بھی کہتے ہیں۔[1] 3تیسری دلیل :صحیح بخاری کی حدیث ہے جسے امام بخاری اپنی سند سے بروایت عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ عنہا لائے ہیں،وہ فرماتی ہیں:(ومامست یدرسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم یدامرأۃ إلا إمرأۃ یملکھا)یعنی:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، سوائے اس عورت کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مِلک میں ہوتی۔[2] امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر (مصافحۃ ذی محرم)کاباب قائم کیا ہے،یعنی: محرم عورت سے مصافحہ کاجواز۔[3] اس سے ثابت ہوا کہ نامحرم اوراجنبی عورت سے مصافحہ ناجائزہے،جبکہ محرم عورت سے جائز ہے،جس سے عورت کا محرم مرد کے سامنے ہاتھ کھلے رکھنے کا جواز ملتاہے۔ اہلِ علم میں سے کسی نے یہ بات نہیں کہی کہ عورت اپنے محارم کے سامنے [1] شرح القصائد السبع الطوال الجاھلیات،ص:۵۲ [2] صحیح بخاری الرقم:۷۲۱۴ [3] السنن الکبریٰ ۸؍۲۹۱