کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 20
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:اس میں تو قدم کے ننگا ہونے کا خدشہ رہے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(فذراعا لاتزید علیہ)بازوبھر نیچے کرلے ، اس سے زیادہ نہیں۔ مسند احمد میں اس طرح وارد ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے لباس کے نچلے حصے(ازار) کی مقدار کی بابت سوال کیا،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک بالشت نیچے رکھا کریں،انہوں نے عرض کیا :اس طرح تو پاؤں کے نظر آنے کاخدشہ رہے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک ہاتھ نیچے کرلیں،اس سے زیادہ نہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے ،اسے امام ترمذی اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے،اس کی سند میں کچھ اختلاف واقع ہوا ہے ،جو اس کی صحت کیلئے مضر نہیں ہے۔ [1] [1]  اس حدیث کو نافع نے روایت کیا ہے،اور نافع سے چھ رواۃ نے اس حدیث کوبیان کیا ہے، ان رواۃ نے نافع پر درج ذیل تین وجوہ سے اختلاف کیا ہے:پہلی وجہ: دوراویوں نے نافع سے یوں بیان کیا ہے: نافع عن صفیہ بنت ابی عبید عن ام سلمہ ،وہ دوراوی یہ ہیں:(۱) ایوب بن موسیٰ ،یہ ثقہ راوی ہےمحدثین کی ایک جماعت نے اس کی حدیث کو روایت کیا ہے،ابن عبدالبر کہتے ہیں:کہ یہ حافظ راوی ہے۔ النسائی(۵۳۳۸)،طبرانی(۱۳؍۴۱۶-۴۱۷)ابویعلی(۱۲؍۳۱۶) (۲) ابن اسحق ،یہ صدوق راوی ہے،اور اس کی روایت میں کوئی حرج نہیںالبتہ اس میں وہم پایاجاتاہےنیز یہ مدلس بھی ہےاور مجھے اس حدیث میں اس کے متعلق تصریح سماع نہیں ملی۔سنن کبریٰ للنسائی(۵؍۴۹۵) احمد(۶؍۲۹۵,۳۰۹)اور اسی کی سند سےہی ابن عبدالبر تمہید میں روایتلائے ہیں۔(۲۴؍۱۴۸) الدرامی(۲۶۴۴)البیہقی فی الکبریٰ(۲؍۲۳۳)الطبرانی(۲۳؍۳۵۸) ہے، اور بات یہ ہےکہ موصول روایت ارجح ہے کیونکہ ایوب بن موسیٰ ابوبکر بن نافع سے اوثق ہے اور اس نے موصولاً بیان کیا ہے۔نیز محمد بن اسحق نے اس کی متابعت بھی کی ہے،جس سے روایت کا موصول ہونا مزید قوی ہوگیا ہے۔اور ان دونوں کی متابعت عبیداللہ بن عمر نے کی ہےاور انہوں نے بھی ام سلمہ کاذکر کرکے اسے موصولاً بیان کیا ہے۔اگرچہ عبیداللہ بن عمر نے ان دونوں کی شیخ نافع میں مخالفت کی ہے، جیسا کہ پیچھے گزرچکاہے۔اور ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم یحیٰ بن ابی کثیر کی روایت کو ان کی روایت کیلئے تقویت کاباعث سمجھیں کیونکہ اس نے ام سلمۃ کے ذکر میں ان سے اتفاق کیا ہے اگرچہ شیخ نافع کوگراکر اس نے ان دونوں کی مخالفت بھی کی ہے۔