کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 155
ہر گز نہ پہننے دیں جو کافروں،یہودیوں اور عیسائیوں کے ممالک سے امپورٹ ہواہے۔واللّٰه اعلم وصلی علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم.[1] الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین رحمہ اللہ سے ایک اورسوال شیخ رحمہ اللہ سے عورت کے،دیگر عورتوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں تنگ، باریک، چھوٹا ، کسی جانب سے پھٹاہوایاچھوٹی آستینوں والالباس پہننے کے بارہ میں سوال کیاگیا؟ جواب میں فرمایا:جہاں تک تنگ لباس کامسئلہ ہے توایسا لباس جوجسم کے نشیب وفراز کو ابھارنے والاہو،پہننا ناجائز ہے؛کیونکہ اس قسم کا لباس دیکھنے والوں کی آنکھوںمیں کشش پیداکرنے کاسبب بنتاہے...مزیدفرمایا:یہی حکم اس لباس کا ہے جو چھوٹا ہو یا کسی طرف سے پھٹاہواور جسم کے کسی حصے کو کھولنے کا سبب بنتاہو،نیز یہی حکم اس قمیض کا ہے جس کی آستینیں چھوٹی ہوں۔عورت کا،رشتہ داروں یا دیگر عورتوں کے درمیان ہونا،اس قسم کے لباس کے جواز کا بہانہ نہیں بن سکتا۔[2] ایک شبہ اور اس کاازالہ بہت سے لوگوں پر بعض فقہاء کی یہ بات اشکال کا باعث بنتی ہےکہ عورت [1] ماخوذ از الفتاویٰ النسائیۃ،ص:۲۴ [2] ماخوذ از الفتاویٰ النسائیۃ،ص:۲۵-۳۱