کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 149
صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے،فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زردرنگ سے رنگے دوکپڑے پہنے ہوئے دیکھا توفرمایا:(إن ھذہ من ثیاب الکفار فلاتلبسھا)یعنی:یہ کفار کالباس ہے،آپ اسے نہ پہناکریں۔ اور صحیح مسلم ہی میں ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (صنفان من أھل النار لم أرھما، قوم معھم سیاط کأذناب البقر یضربون بھا الناس، ونساء کاسیات عاریات ممیلات، مائلات، رؤوسھن کأسنمۃ البخت المائلۃ، لایدخلن الجنۃ ولا یجدن ریحھا، وإن ریحھا لیوجد من مسیرۃ کذا وکذا)[1] ترجمہ:دوجہنمی گروہ جو میرے دور میں پیدا نہیں ہوئے (لیکن آگے چل کر ضرور ظاہر ہونگے)ایک وہ قوم جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح کوڑے ہونگے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے،دوسرا گروہ ان عورتوں کا جو لباس پہنی ہوئی ہونگی مگر برہنہ ہونگی، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود ان کی طرف مائل ہونے والی ہونگی،ان کے سر اونٹنیوں کی کوہانوں کی مانند ہونگے ،یہ عورتیں جنت میں داخل نہ ہوسکیں گی، نہ ہی اس کی خوشبو پاسکیں گی، حالانکہ جنت [1] صحیح مسلم:۲۱۲۸