کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 132
وجہِ استدلال سترپوشی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے،توپھر عورت پر واجب ہے کہ وہ عورتوں اورمحرم مَردوں کی موجودگی میں اپنے جسم کے ان حصوں کو جوعام طور پہ ظاہر نہیں ہوتے کی نمائش نہ کرے (یہ بات )حیاء اور سترپوشی کے زیادہ قریب اورمناسب ہے۔(اگرچہ کچھ فقہاء نے دوسراقول بھی اختیارکیا ہے)مگر یہ قول اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب اور مشابہ للحق ہے؛کیونکہ اس میں ستروحیاء کی متقاضیات پوری طرح موجود ہیں۔ چھبیسویں دلیل عن حسین بن علی رضی اللّٰه عنھما قال قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم :(إن اللّٰه یحب معالی الأمور وأشرافھا ویکرہ سفسافھا)[1] [1] الطبرانی (المعجم الکبیر۲۸۹۴) وغیرہ،ہیثمی نے کہا ہے سند میں خالد بن الیاس ہے جسے احمد، ابن معین، بخاری اور نسائی نے ضعیف قراردیا ہےبقیہ رواۃ ثقہ ہیں(مجمع ۸؍۱۸۸) عراقی کہتے ہیں: اسے بیہقی نے متصلا اور منفصلا دونوں طرح روایت کیا ہے۔اوردونوں سندوں کے رواۃ ثقہ ہیں۔(فیض القدیر۲؍۲۹۶) سیوطی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔(الجامع الصغیر۱۸۸۹)شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے(صحیح الجامع الصغیر۱۸۹۰)انس ؓ کی حدیث سے اس حدیث کا ایک شاہد بھی موجود ہے۔ ہیثمی کہتے ہیں اسے طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ہے اور اس میں ایک راوی کومیں نہیں جانتا۔(مجمع ۸؍۱۸۸) سہل بن سعد کی حدیث سے ایک شاہد ہے جس کے متعلق ہیثمی کہتے ہیںطبرانی نے اسے کبیر اوراوسط میں روایت کیا ہے اور طبرانی کبیر کے رواۃ ثقہ ہیں۔(مجمع۸؍۱۸۸(