کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 124
مطلب نہیں کہ گھر سے باہر بھی مباح ہوگا،ایک بات اور ،عورت اگر محفلوں اور شادی گھروںمیں چھوٹا اور باریک لباس پہنے گی ،توممکن ہے کہ وہ حدیثِ مذکور میں ذکرشدہ وعید میں کلی یاجزوی طور پہ داخل ہوجائے۔ اکیسویں دلیل أخرج أبوداؤد عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضی اللّٰه عنہ عن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:(إذا زوج أحدکم عبدہ ،أمتہ فلاینظر إلی عورتھا)وفی لفظ إذا أنکح أحدکم خادمہ عبدہ أو أجیرہ فلاینظرن إلی شیٔ من عورتہ فإ ن ما أسفل من سرتہ إلی رکبتیہ من عورتہ)[1] ترجمہ:ابوداؤدنے عمروبن شعیب سے ،انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے داداسے،انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،فرمایا:جب تم میں [1] اس کی سند میں کوئی حرج نہیں،اس میں سوار بن ابی حمزہ راوی ہے،لیث بن ابی سلیم نے اس کی متابعت کی ہے(ابن عدی والبیہقی) ابوداؤد میں ولید عن الاوزاعی عن عمرو کی سند سے یہ روایت آئی ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے۔تخریج حدیث: مسنداحمد (الفتح۳؍۸۳) ابوداؤد(۴۱۱۳،۴۱۱۴) دارقطنی (۱؍۲۳۰) بیہقی (۲؍۲۲۹) الخطیب البغدادی (التاریخ:۲؍۲۷۸) البغوی (شرح السنۃ۲ ؍۴۰۶-۴۰۷) ابونعیم (الحلیۃ(۱۰؍۲۶) ساعاتی نے اس کی سند کوجید کہا ہے۔ابوالطیب التعلیق المغنی میں کہتے ہیں:اس حدیث کو عقیلی نے اپنی کتاب الضعفاء میں روایت کیا ہےاور سوار بن داؤد کو کمزور کہاہے۔صاحب التنقیح کہتے ہیں:سوار بن داؤد ابوحمزہ البصری کو ابن معین اور ابن حبان نے ثقہ کہا ہے، اور امام احمد نے کہا ہے یہ بصرہ کے شیخ ہے ان میں کوئی حرج نہیں۔