کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 113
اب جبکہ برہنگی کالباس،بدقماش عورتوں کی پہچان بن کررہ گیا ہےتو ایک مسلم خاتون کیلئے اس کاترک ضروری ہے،تاکہ اس قسم کی خواتین سے ان کی دوری پیدا ہو جائے، اور تاکہ ان کی مشابہت اختیار کرنے کی ناپسندیدگی ظاہرہوجائے،اور تاکہ ان کالباس پہن کر ان کی جماعت میں اضافہ کاباعث نہ بناجائے۔ اورچونکہ جسم کوڈھانپنے والالباس،عقلمند اورصالح خواتین کی پہچان ہے تو صالحیت اور سمجھ بوجھ کا ثبوت دینے کیلئے اسے ہی زیب تن کیاجائے۔ سولہویں دلیل عن ابن عباس رضی اللّٰه عنھما قال :(لعن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء ، والمتشبھات من النساء بالرجال)[1] ترجمہ:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااسے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت برسائی ہے۔ وعن ابی ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ قال :(لعن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم الرجل یلبس لبسۃ المرأۃ ،والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل)[2] [1] بخاری(۵۸۸۵)احمد(۳۱۵۱)ابوداؤد(۴۰۹۷)ترمذی(۲۷۸۵)ابن ماجہ(۱۹۰۴)وغیرھم بعض روایات میں لعن رسول اللہ کی جگہ لعن اللہ کے لفظ ہیں۔ [2] صحیح،احمد(۲؍۳۲۵) ابوداؤد(۴۰۹۸)حاکم (۴؍۱۹۴)نے اسے شرطِ مسلم پر ہونے کی بنیاد پر صحیح قرار دیاہے۔امام نووی نے ریاض الصالحین (ص:۷۶۰)اورذہبی نے (الکبائر،ص:۱۰۲) میں اس کی سند کوصحیح قرار دیاہے ۔شوکانی (النیل:۵۹۱)فرماتے ہیں اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد اورمنذری نے اس پر کوئی کلام نہیں کی اور اس کی سند کے تمام رواۃ صحیح کےرواۃ ہیں۔