کتاب: عورت کا لباس - صفحہ 108
دعوت کے کچھ افراد کو عجمی لباس میں ملبوس پایاتووہاں سے چلے آئے اور فرمایا: من تشبہ بقوم فھو منھم.یعنی جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہوتاہے۔[1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مسلمان کا،کافر کے لباس سے فرق اختیار کرنا ایک شرعی مطلوب ہے۔[2] مروذی کی روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک مخصوص عجمی جوتے کے بارے میں سوال کیاگیاتوآپ نےفرمایا:میں اسے نہیں پہنتا نہ کبھی پہنوں گا،محمد بن ابی حرب کی روایت میں یہ اضافہ بھی منقول ہےکہ امام احمد نے فرمایا: کیونکہ یہ عجمی لباس میں شمارہوتاہے۔[3] علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:عرب کامعروف لباس،عجمیوں کے لباس سے افضل ہے۔[4] حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اس (قولِ عمر رضی اللہ عنہ ) سےبہت سے علماء نے غیرمسلموں کے لباس کے ناپسندیدہ ہونے کی دلیل لی ہے۔ [1] اقتضاء الصراط المستقیم۱؍۳۴۵ [2] اقتضاء الصراط المستقیم:۱؍۲۵۰ [3] اقتضاء الصراط المستقیم:۱؍۲۴۴ [4] فتح الباری لابن رجب:۲؍۳۹۳