کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 720
اسے اس سے ذبح کردیا تو اس نے انھیں کہا:کھاؤ نہیں جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں یا انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی کو پوچھنے کے لیے بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دے دیا۔ اسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔ اور عورت کے ذبح کرنے کے باوجود اسے کھانے کا حکم اس کے ذبیحے کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔ اگر اس کا ذبیحہ ناجائز ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے واضح کر دیتے کیونکہ علماء کا اجماع ہے کہ آپ کے حق میں بیان کو ضرورت کے وقت سے لیٹ کرنا جائز نہیں۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) کسی عورت کا اپنی سوکن کی طلاق کے لیے اپنے خاوند پر جادو کرنا: سوال:کسی بیوی نے اپنے خاوند کو جادو کردیا تاکہ وہ دوسری بیوی کو طلاق دے اور جادو حیض کے خون پر ہوا جسے اس کے خاوند نے کھالیا تو کیاحکم ہے؟ جواب:یہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے کفر ہے، البتہ جادو گر کے حکم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، کچھ کہتے ہیں کہ وہ مرتد اور کافر ہے اور یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور مذہب ہے، اور کچھ علماء کا موقف ہے جیسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہیں کہ اگر کفر پر مشتمل ہو تو کفر ہو گا، اگر نافرمانی پر مشتمل ہو تو نافرمانی ہو گی اور اگر کسی پر بھی (کفریا نافرمانی پر) مشتمل نہ ہو تو ایک نافرمانی ہوگی۔ اور سب سے اچھا موقف وہ ہے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ،جیسے حفصہ اور امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہما کہ جادوگر کافر ہے۔ اور العیاذ اللہ !اس مذکورہ عورت پر اپنے کفر سے توبہ کرنا فرض ہے اور یہ کہ دو گواہیوں کا اقرار کرتے ہوئے اسلام کی طرف دوبارہ آئے اور اس کے بعد غسل کرے اور اس جادو کو کھولنے کی کوشش کرے۔ لہٰذا استغفار کرے اور خالص توبہ کرے کیونکہ اس بری کر توت کی وجہ سے وہ مرتد ہو چکی ہے ۔اور جادو کو توڑنے کے لیے اس جیسے جادو کو اختیار نہ کرےبلکہ قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں کے ذریعے اس کا توڑ کرے۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن عبد المقصود)