کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 718
يَحْتَسِبُ " (الطلاق:2،3)
"اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔ اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔"
نیز فرمایا:
"وَمَن يَتَّقِ اللّٰـهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا"(طلاق:4)
"اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا۔"
اور وہی تو کہتا ہے:
"وَتُوبُوا إِلَى اللّٰـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"(النور:31)
"اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو!تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔"
لہٰذا اے میری بہن ! تم پر گزشتہ گناہوں کی وجہ سے اللہ سے توبہ کرنا اور اس کی بندگی پر استقامت اختیار کرنا اور اس سے حسن ظن رکھنا اور اس کی ناراضگی سے بچنا واجب ہے۔ خیر کثیر اور قابل تعریف انجام سے خوش ہو جاؤ ۔(سماحۃ الشیخ عبد اللہ بن باز رحمۃ اللہ علیہ )
موت کی سختیوں کا گناہوں میں تخفیف کرنا :
سوال:موت کی بیہوشیوں کی سختی کیا گناہوں میں تخفیف کر سکتی ہے؟ اور ایسے ہی بیماری گناہوں کو کم کر سکتی ہے؟ ہم فائدے کی امیدوار ہیں۔
جواب:ہاں، ہر بیماری ،سخت غم اور پریشانی جو بھی انسان کو پہنچتی ہے حتی کہ لگنے والا کانٹا بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، پھر اگر وہ صبر اور ثواب کی نیت رکھے تو کفارے کے ساتھ اس صبر کا اجر بھی ہو گا جس سے اس نے مصیبت کا مقابلہ کیا تھا اور اس میں کوئی فرق نہیں، چاہے وہ موت کے وقت ہو یا اس سے پہلے ہو، لہٰذا تکالیف مومن کے حوالے سے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں۔ اس پر اللہ کا فرمان بھی دلالت کرتا ہے:
"وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ"(الشوریٰ:30)