کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 716
"اور بلاشبہ یقیناً ہم نے فرعون کی آل کو قحط سالیوں اور پیداوار کی کمی کے ساتھ پکڑا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔"نیز فرمایا: "فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللّٰـهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ" (العنکبوت:40) ’’ تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ اس مفہوم کی آیات بہت زیادہ ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وإنَّ العبد ليُحرَم الرِّزقَ بالذنب يصيبه "[1] "بندہ اپنے کیے ہوئے گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کیا جا تا ہے۔" لہٰذا ہر مسلمان مرد اور عورت کا فریضہ ہے کہ اللہ سے اچھا گمان رکھتے ہوئے اور بخشش کی امید کرتے ہوئے اور اس کے غصے اور سزا سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے پر ہیز کرے اور گزشتہ سے توبہ کرے۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں اپنی پیاری کتاب میں فرمایا ہے: "كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ" (الانبیاء:90) "وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے۔
[1] ۔حسن ۔سنن ابن ماجہ رقم الحدیث(90)