کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 714
" إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاث : صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ"[1]
"جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو سوائے تین کے باقی تمام اعمال ختم ہو جاتے ہیں:صدقہ جاریہ ،نفع بخش علم ،ایسی نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"
لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ" (یا ایسا نیک بچہ جو اس کے لیے دعا کرے۔)یہ نہیں کہا کہ ایسا نیک بچہ جو اس کے لیے روزہ رکھے یا اس کے لیے نماز پڑھے یا اس سے صدقہ کرے یا اس سے ملتے جلتے کام کرے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ میت کے لیے دعا کرنا اس سے بہتر ہے جو اس کی طرف سے ہدیہ کیا جاتا ہے اور اگر انسان میت کے لیے کوئی نیک کام بھی کرے، یعنی میت کے لیے کوئی چیز صدقہ کرے یا میت کے لیے دو رکعتیں پڑھے یا قرآن مجید پڑھ کر اس کا ثواب میت کے لیے کردے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا لیکن ان تمام سے اس کے حق میں دعا کرنا بہتر ہو گا ۔کیونکہ اسی کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راہنمائی کی ہے۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ )
ساتویں دن کے بعد بال مونڈنا اور ان کے برابر چاندی صدقہ کرنا:
سوال:کسی بچے کی پیدائش کے وقت گھر والوں سے اس کی بیماری میں مصروفیت کی وجہ سے سر کے بال مونڈے نہیں گئے اور ان کے برابر چاندی بھی صدقہ نہیں کی گئی جبکہ اس کی عمر اب 45دن ہو چکی ہے۔
جواب:اس کی طرف سے عقیقہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ ساتواں دن مقرر کرنا حد بندی کے لیے نہیں بلکہ اختیار کے لیے ہے اور بالوں کا وزن بھی اب کوئی زیادہ تو نہیں ہو گیا ہو گا۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن عبدالمقصود)
گونگی بہری عورت کا نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا:
سوال:میری والدہ عمر رسیدہ ہے، وہ جب سے پیدا ہوئی ہے اس وقت سے نہ تو وہ سنتی ہے اور نہ ہی گفتگو کر سکتی ہے بلکہ ہم سے اشارے سے گفتگو کر لیتی ہے اور نماز
[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (1631)