کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 713
اپنی طرف سے عقیقہ کرلیں، لیکن یہ پوشیدہ نہیں کہ یہ احادیث بچے اور بچی کے ساتھ خاص ہیں، البتہ بڑے کا اپنا عقیقہ کرنا دلیل کا محتاج ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ والی حدیث کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا عقیقہ کیا ،کمزور حدیث ہے، اسے دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔ پمفلٹ اور کتابچوں کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے بانٹنا صدقے کی طرح ہی ہے، نیز علم ان لوگوں میں عام کرنا جو وہ کتابچے اور پمفلٹ خرید ہی نہیں سکتے تو یہ ایک مفید کا م ہے بشرطیکہ اس میں نیت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی ہو۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن عبد المقصود) کسی فوت شدہ کے عقیقے کے بارے میں شرعی حکم : سوال:میری والدہ وفات پا چکی ہے اور میں اس کے لیے عقیقہ کرنا چاہتی ہوں، بغداد کی مسجد کے امام سے پوچھنے پر اس نے کہا ہے کہ عقیقہ زندہ کے لیے کار آمد ہے، مردہ کے لیے نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ جواب:مردے کے لیے عقیقہ مشروع نہیں بلکہ انسان کی ولادت کے ساتویں دن مشروع ہے ،اس کے باپ کے لیے مشروع ہے کہ وہ اپنے بچے سے عقیقہ کرے ،چاہے وہ مذکر ہو یا مؤنث ہو، لیکن مذکر کے دو (بکریاں) اور مؤنث کا ایک (بکری) سے عقیقہ ہو گا جو ساتویں دن ذبح کیا جائے گا۔ اس سے کھایا ،صدقہ اور تحفہ بھی دیا جا سکتا ہے اور اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ وہ ساتویں دن اس کی اپنے قریبیوں اور پڑوسیوں کو دعوت دے اور باقی کو صدقہ کردے، لہٰذا اس میں وہ دونوں عملوں (کھانے اور صدقہ کرنے) کا جامع ہو۔ اگر انسان غریب ہو اور مذکر سے ایک بکری عقیقہ کرے تو وہی اسے کافی ہو گا ۔علماء کا تو کہنا ہے کہ اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو چودھویں دن اور اگر اس دن بھی ممکن نہ ہوتو اکیسویں دن، اگر نہ ہو سکے تو جس دن بھی چاہے ذبح کر لے، یہ عقیقہ ہی ہو گا۔ البتہ میت کا عقیقہ نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے بخشش رحمت اور خیر وغیرہ کی دعا کی جاسکتی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے: