کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 712
اور کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ عقیقہ سنت مستحبہ ہے اور واجب نہیں اور یہی درست ہے کیونکہ امام احمد اور ابو داؤد نے حسن سند سے بیان کیا ہے عمرو بن شعیب سے وہ اپنے باپ اور ان کا باپ اپنے دادا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقے کے بار ےمیں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یقیناً اللہ تمہارے عقوق (نافرمانی) کو ناپسند کرتا ہے"تو انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ سے اس کے بارے نہیں پوچھتے لیکن ہم آپ سے اپنے میں سے کسی ایک کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا کوئی بچہ پیدا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"[1] "جو اپنے بچے سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو کر گزرے ،بچے سے برابر کی دو بکریاں اور بچی سے ایک بکری۔" تو عقیقہ مستحب ہوالیکن آپ ملاحظہ کریں کہ عقیقے کے بارے میں آنے والی احادیث کا تعلق اس فرمان سے"الغلام والجارية"(بچہ اور بچی) ہے۔ امام احمد اور ترمذی کے نزدیک عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ"[2] "بچے سے دو برابر کی بکریاں اور بچی سے ایک بکری ہے۔" اسی طرح یہ بلوغت سے پہلے کے ساتھ مشروط اور خاص ہے۔ اسی بارے میں امام شافعی نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ اس سے ساتویں دن ذبح کیا جائے"یہ وقت مقرر کرنے کے لیے نہیں، یہ اختیار کے لیے ہے اور پسندیدہ وقت یہ ہے کہ اسے ساتویں دن ذبح کیا جائے لیکن اگر ساتویں دن کے بعد ذبح کیا جائے تو یہ جائز ہے جب تک بچہ اور بچی بالغ نہ ہوں تو اگر وہ بالغ ہو جائیں تو جسے ان دونوں کے عقیقے کا خطاب کیا گیا ہے وہ ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد ان کے لیے یہ جائز ہو گا کہ
[1] ۔ صحیح۔ سنن النسائی داؤد رقم الحدیث(4212) [2] ۔صحیح ۔سنن ابی داؤد، رقم الحدیث(2837)