کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 711
ہو سکتا ہے کہ وہ ان دونوں کو فائدہ دے کر ان کی حالت کو درست کردے ۔کیا وہ صدقہ جاریہ فائدہ دے گا؟یا میں کون سا کام کروں کہ اللہ مجھے ہدایت دے؟
جواب:اکثر علماء کے مذہب کے مطابق عقیقہ سنت ہے ،صرف اہل ظواہر اور تابعین میں سے حسن بصری نے اسے واجب قراردیا ہے۔ اور عقیقہ کو واجب کرنے والے نے سلمان بن عامر الضبی کی حدیث سے دلیل لی ہے جسے امام بخاری نے معلق بیان کیا ہے اور امام احمد اور اصحاب سنن نے موصول بیان کیا اور اس کی سند صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى"[1]
"بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، اس سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کرو۔"
فَأَهْرِيقُوا (خون بہاؤ)یہ حکمی فعل ہے اور حکم واجب ہونے کو چاہتا ہے، اسی طرح امام احمد اور اصحاب سنن کے نزدیک ثابت ہے جسے امام ترمذی نے صحیح کہا ہے اور ایسے ہی امام بخاری نے سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"كُلُّ غُلاَمٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيسمي فيه وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ"[2]
"ہر بچہ عقیقے کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے، اس کے ساتویں دن اس کی طرف سے جانورذبح کیا جائے گا اور اس میں نام رکھا جائے گا اور اس کے سر کو منڈھا یا جائے گا۔"
امام احمد نے کہا ہے: یعنی جب وہ عقیقہ کیے بغیر فوت ہوجائے تو وہ اپنے والدین کے حق میں سفارش نہیں کرے گا ۔اور کچھ اہل علم کا کہنا ہے: ہر بچہ اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہے، یعنی عقیقہ کرنے تک اس کا نام نہ رکھا جائے اور سر نہ منڈھایا جائے تاکہ کہا جائے: یہ فلاں کا عقیقہ ہے اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ !یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔
[1] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث (5154)
[2] ۔صحیح۔ سنن ابی داؤد رقم الحدیث(2837)