کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 710
جائے تو زنا کاری سے باز رہے۔ علامہ موفق وغیرہ نے اس کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کرنا ان کا حق ہے کیونکہ بہکانا سب سے بڑی برائی ہے اور اگرچہ اس کا مقصد امتحان اور تجربہ ہی ہو۔یہ اللہ کے فرمان میں داخل ہے: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ"(الاسراء:32)"اور زنا کے قریب نہ جاؤ۔" کیونکہ بہکانا امتحان لینے والے اور لینے والی کے زنا میں واقع ہونے کا سب سے زیادہ قریب ہے تو اگر کوئی فاجرا سے بہکاتا ہے تو گناہ ہو جائے گا یا قریب الوقوع ہوگا، اور اگر اسے پرہیز گار بہکاتا ہے تو اس مرد اور اس عورت پر برائی میں واقع ہونے کا خطرہ ہو گا اور اگر وہ سمجھ جاتی ہے کہ یہ بہکانا امتحان کے لیے ہے تو اس سے مقصد حاصل نہیں ہو گا ۔ اس مسئلے کو اس شخص کے معاملے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جو کسی نامعلوم آدمی سے معلوم کرنا چاہے یا اس کی صداقت معلوم کرنی چاہے تو امتحان کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ اس صورت میں مقصد کا حاصل ہو نا فتنے کے بغیر ہوتا ہے لیکن زیر بحث مسئلے کی ان کے قول کے مطابق شریعت میں کوئی نظیر نہیں ہے ،لہٰذا یہ تو ضرر محض شمار ہو گی۔(فضیلۃ الشیخ عبد الرحمٰن السعدی ) بلوغت کے بعد کسی کا عقیقہ کرنا یا ایصال ثواب کے لیے پمفلٹ چھپانا: سوال:الحمد اللہ میرے ہاں ایک لڑکا اور لڑکی پیدا ہوئی اور ان دونوں کا عقیقہ کرنے کے لیے میرے پاس گنجائش نہیں تھی تو وہ بڑے ہو گئے اور اب 19،16،سال کے ہو گئے ہیں اور میں ان کی والدہ سے الگ ہو چکا ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ان دونوں کا عقیقہ کرنا ضروری ہے اور میں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا کیونکہ میرے والد نے میرے عقیقے کا اہتمام بھی نہیں کیا تھا تو کیا میں ذخیرہ کرتے ہوئے اپنے تمام کا عقیقہ کر سکتا ہوں؟کیونکہ میں ہر اچھے کام میں اپنی حالت کو درست کرنے کے لیے اللہ عزوجل کے قریب ہونا چاہتا ہوں یا کہ وہ ہم سے ختم ہو چکا ہے اور اس کا ہمیں فائدہ نہیں ہو گا؟ اور کیا اگر میں کچھ پمفلٹ اور کتابچے تیار کرواؤں اور ان کی نشرواشاعت بھی مکمل ہو جائے، اس مقصد کے لیے کہ یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔