کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 706
کے خاوند نے اسے اس سے باز کردیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ وہ(عورت) پابندی کے نیچے ہے تو کیا اس سے یہ دعویٰ قبول کیاجائے گا؟جبکہ اس(عورت) سے کبھی کوئی بیوقوفی نہیں ہوئی کہ اس پر پابندی لگائی جائے تو کیا(عورت) کے لیے اسے اپنے مال میں تصرف کرنے سے روکنے کا جواز ہے؟ جواب:اس کے باپ کے لیے اس عورت کے مال میں اپنی ذات کے لیے تصرف جائز نہیں بلکہ جب وہ اس عورت کے مال میں تصرف کرے گا تو اس سے اس کی اہلیت بھی قابل اعتبار نہیں رہے گی،اور اس کو اس مذکورہ پر حجر وغیرہ کی ولایت سے روک دیا جائے گا۔لیکن اگر وہ ولایت کا اہل ہوتو اس(عورت) کے لیے اس کے حصے کا تصرف کرسکتا ہے اپنے لیے نہیں،اور اس کے لیے اس کا والی بننا بھی درست نہیں۔ہاں،اگر وہ ہمیشہ بیوقوف ہی رہے تو اگر وہ سمجھدار ہوجائے تو اس مرد کے اختیار کے بغیر ہی پابندی ختم ہوجائے گی،اور جب اس کی سمجھداری کی دلیل قائم ہوجائے تو اس کی ا س سے ولایت کے ختم کرنے کا حکم لگایا جائے گا۔اور عورت پر لازم ہوگا کہ وہ قسم دے کہ مذکورہ شخص،جس نے اپنی ولایت کا مطالبہ کیاہے اور اس کی دلیل بھی پیش نہیں کی،اس کی سمجھداری سے آگاہ نہیں ہے۔(شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ) باپ کا اپنی بیٹی کے مہر کو استعمال کرنا: سوال:کیا باپ کے لیے اپنی بیٹی کے حق مہر سےکچھ لینا جائز ہوگا؟ جواب:باپ کے لیے اپنی بیٹی کے حق مہر سے جس قدر وہ چاہے لینا جائز ہوگا اگرچہ وہ زیادہ ہی ہو کیونکہ اس کے مال کا مالک بننا جائز ہے تو اس کے حق مہر کا مالک کیسے نہیں ہوسکتا؟واللہ اعلم۔(فضیلۃ الشیخ عبدالرحمان سعدی) کسی مرد کااپنی بہن یا بیٹی کے مہر سے اپنی شادی کرنا: سوال:کیا مرد کے لیے اپنی بیٹی یا بہن کے مہر سے اپنی شادی کرنا جائز ہے؟ جواب:اس کی بیٹی یا بہن کا حق مہر اس(بہن یا بیٹی) کے حقوق اور ان کی ملکیتوں کا حصہ