کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 699
زندہ رہا تو وہ ایک سال روزے رکھے گی۔پھر واقعتاً حمل بھی بچ گیا اور پیدائش بھی ہوگئی۔اب اس کا بیان ہے کہ وہ روزے سے عاجز ہے۔
جواب:کوئی شبہ نہیں کہ فرمانبرداری کی نذر عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے،اور اللہ نے نذر پوری کرنے والوں کی تعریف بھی کی ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
"يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا"(الدھر:7)
"جو اپنی نذر پوری کرتے ہیں،اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہوگی۔"
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللّٰهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ"[1]
"جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی نذر مانی ہے وہ اس کی فر مانبرداری کرے،اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی وہ نافرمانی نہ کرے۔"
کسی آدمی نے بوانہ مقام پر ایک اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:
" هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد ؟ کیا اس میں جاہلیت کے بتوں سے کوئی بت تو نہیں جس کی عبادت کی جاتی ہے؟"
تو اس نے کہا:نہیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
"هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟"کیا اس میں ان کی عید میلوں سے کوئی عید میلہ تو نہیں؟"تو اس نے کہا:نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَوْفِ بِنَذْرِكَ فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللّٰهِ وَلَا فِيمَا لَا يمْكن ابْنُ آدَمَ "[2]
"اپنی نذر کو پورا کر کیونکہ اللہ کی نافرمانی میں نذر کو پورا کرنے کا جواز نہیں اور نہ اس میں جو ابن آدم کے لیے ناممکن ہے۔"
[1] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث(6318)
[2] ۔صحیح۔ سنن ابی داود، رقم الحدیث(3313)