کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 697
ایسے کرے گا،اور جب اس کی کوئی چیز گم ہوجائے تو اگر وہ اسے پائے گا تو وہ فلاں فلاں کام کرے گا،پھر اگر وہ شفا یاب یا گم شدہ کو حاصل کرلیتا ہے تو یہ مطلب نہیں ہوگا کہ نذر اس کی وجہ بنی ہے بلکہ یہ محض اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔
اللہ اپنے آپ سے سوال کی گئی چیز عطا کرنے میں شرط کا محتاج نہیں بلکہ آپ کا ذمہ ہے کہ آپ اللہ سے اس مریض کی شفا اور اس گم شدہ کو لانے کا سوال کریں لیکن نذر کی کوئی وجہ اور ضرورت نہیں۔اکثر نذر ماننے والے جب ان کی نذر کا مقصودحاصل ہوجاتا ہے تو وہ نذر پوری کرنے میں سستی کرتے ہیں کچھ تو پورا کردیتے ہیں اور کچھ اسے رہنے دیتے ہیں،یہ بہت بڑا خطرہ ہے۔آپ اللہ کے اس فرمان کو غور سے سنیں:
"وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللّٰـهَ لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٧٥﴾ فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ"(التوبہ:75۔76)
"اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ یقیناً اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا تو ہم ضرور ہی صدقہ کریں گے اور ضرور ہی نیک لوگوں سے ہوجائیں گے،پھر جب اس نے انھیں اپنے فضل میں سے کچھ عطا فرمایا تو انھوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ گئے اس حال میں کہ وہ بے رخی کرنے والے تھے۔"
اسی بنیاد پر ایماندار کے لیے نذر ماننا مناسب نہیں لیکن رہا سوال کا جواب تو ہم کہتے ہیں کہ جب انسان کسی مقام پر نذر مانتاہے اور اس کے علاوہ کو اس سے بہتر سمجھ لیتا ہے اور اللہ کی قربت کا اقرب ذریعہ اور اللہ کے بندوں کے لیے زیادہ فائدہ مند تو نذر کی جہت کو فضیلت والے مقام کی طرف بدلنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔اس کی دلیل یوں ہے کہ کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ آپ پر مکہ کو فتح کر دے گا تو میں بیت المقدس میں نماز ادا کروں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صَلِّ هَاهُنَا ""یہاں نماز پڑھ لیں"پھر آدمی نے دوبارہ کہا تو