کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 695
گروی رکھی ہوئی چیز کی خریدوفروخت کا مالک ہوگا کیونکہ اصحاب(حنابلہ) نے بیان کیا ہے کہ انسان کے لیے ہے کہ رہن رکھنے والے کو مال دے،اور جب قرض کی ادائیگی کا وقت ہوجائے اور لیا گیا قرض واپس نہ کیا جائے تو مال مرہون کو بیچ دیا جائے۔اور وہ شخص جس کو رہن رکھنے کی اجازت دی گئی ہے وہ سامان والے کے لیے قیمت رہن کی ادائیگی کا مکلف ہوگا تو اس عورت کے لیے اگرچہ جائز ہے یا ناجائز ہے جب وہ اپنے بیٹے کو اپنا زیور گروی رکھنے کے لیے اجازت دے دے گی،پھر وہ اسے گروی رکھے۔
اور گروی چیز بیچنے کی ضرورت پڑتی ہے تو بیچا جاسکتا ہے،اور قرض دینے والا اس کی قیمت سے اپنا حق وصول کرلے اور باقی ماندہ قیمت عورت کی ہوگی۔اس کے بیٹے کے ذمہ وہ باقی رقم ہوگی جو قرض دینے والے نے وصول کی ہے۔واللہ اعلم۔(فضیلۃ الشیخ عبدالرحمان السعدی)
والدہ کا کسی بچے کو کوئی چیز دینا جبکہ دوسرے مالدار ہوں:
سوال:کسی بیٹے کے مالدار ہونے کی وجہ سے کسی بیٹے کو میں وہ چیز دے سکتی ہوں جو میں دوسرے کو نہ دوں؟
جواب:اپنے بچوں سے کسی مذکر ومؤنث کو دوسرے کے بغیر خاص کرنا تیرے لیے جائز نہیں بلکہ وراثت کے لحاظ سے ان کے درمیان عدل کرنا یا ان تمام کو رہنے دینا ضروری ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
" فاتقوا اللّٰہ، واعدلوا بين أولادكم" [1]
"اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان عدل کرو۔"
لیکن اگر وہ آ پس میں کسی کو کسی چیز سے خاص کرنے پر راضی ہوں تو اگر راضی ہونے والے بالغ اور سمجھدار ہوں تو کوئی حرج نہیں،اور اسی طرح اگر تیری اولاد میں سے جو کسی بیماری یا کمانے سے رکاوٹ والی کوئی وجہ ہونے سے کمانے سے بے بس ہو اور اس کا
[1] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث(2447)