کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 690
موسیقی اور گانے سننا اور ٹی وی ڈرامے دیکھنا : سوال:موسیقی اور باجے سننے کا کیا حکم ہے؟ اور ان ڈراموں کو دیکھنے کا کیا حکم ہے جن میں عورتیں بے پردہ ہو کر سامنے آتی ہیں؟ جواب:موسیقی اور گانا سننا حرام ہے, اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ۔سلف صالحین اور تابعین سے یہ ثابت ہے کہ گانا نفاق پیدا کرتا ہے اور گانے کو سننالہو الحدیث (بیہودہ بات) میں داخل اور اس سے دلچسپی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللّٰـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ" (لقمان:6) "اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے, یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔" عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں "لہو الحدیث "سے مراد گانا ہے۔ صحابی کی تفسیر بھی حجت ہے۔ اس کا تفسیر کے حوالے سے تیسرا درجہ ہے کیونکہ تفسیر کے تین درجے ہیں : 1۔قرآن کی تفسیر قرآن سے۔ 2۔قرآن کی تفسیر حدیث سے۔ 3۔قرآن کی تفسیر صحابہ کے اقوال سے۔ حتی کہ بعض اہل علم کا موقف ہے کہ صحابہ کی تفسیر مرفوع حدیث کے حکم میں ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کے لیے مرفوع حدیث کا حکم نہیں۔ یہی بات درستگی کے زیادہ قریب ہے، پھر گانے اور موسیقی کو سننا حرام کام میں واقع ہونا ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان سے ڈرایا ہے: "ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر و الحرير و الخمر و المعازف"[1]
[1] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث (5268)