کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 689
"جس نے ہدایت کی طرف دعوت دی اس کے لیے اتنا ہی اجر ہو گا جس قدر اس کی پیروی کرنے والے کے لیے اجر ہو گا۔ اور ان کے اجروں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔ اور جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی تو اس پر اس کی پیروی کرنے والے کے گناہ کی طرح ہی گناہ ہو گا، ان کے گناہوں سے کم نہیں کیا جائے گا۔"(اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" صِنْفَان مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا بَعْدُ: قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ. وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ. لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا "[1]
"جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ میں نے انھیں نہیں دیکھا :ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس کوڑے ہوں گے گائے کی دموں جیسے وہ ان کے ساتھ لوگوں کو ماریں گے اور ایک قسم ان عورتوں کی ہے جو عورتیں پہننے والی مائل ہونے والی اور کرنے والی ہیں اور ان کے سر جھکے ہوئے اونٹوں کی کوہانوں جیسے ہوں گے، نہ تو وہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی مہک پا سکیں گی۔" (اسے بھی امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے)
اس مفہوم میں بہت سی آیات ہیں ۔ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اس کی توفیق دے جس میں ان کی فلاح اور نجات ہے اور یہ کہ وہ نشرواشاعت اور صحافتی امور کے نگرانوں کو ہر اس کام کی ہدایت دے جس میں معاشرے کی سلامتی اور اس کی نجات ہے اور وہ انھیں ان کے نفسوں کی شرارتوں اور شیطان کے مکرو فریب سے بچائے، یقیناً وہ باعزت سخی ہے۔(سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ )
[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (2128)