کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 688
اس طرح ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے قرآن مجید مفید باتیں اور اسی طرح کی دوسری چیزیں سننے میں کوئی حرج نہیں۔ میری نصیحت ہے کہ"اذاعۃ القرآن"اور برنامج "نور علی الدرب "کی طرف بطور خاص توجہ کی جائے کیونکہ یہ بڑے مفید ہیں۔ ایسے جرائد اور رسالے شائع کرنے کا حکم جن میں عورتوں کی عریاں تصویریں ہوں: سوال:ان رسالوں کو جاری کرنے کا کیا حکم ہے جن میں بے پردہ عورتوں کی تصویریں اور جوش ابھارنے کے انداز کے ساتھ نمایاں ہوتی ہیں جن میں اداکاروں اور اداکاراؤں کی اخبار کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔ اسے خریدنے والے کا کیا حکم ہے؟ جواب:ایسے رسالوں کو نکالنا جائز نہیں جو عورتوں کی تصویریں شائع کرنے والے یا زنا اور برائیوں کی طرف بلانے والے یا لواطت یا نشہ آور چیزوں کے استعمال یا اسی طرح باطل کی طرف دعوت دینے اور اس پر مدد کرنے والی چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان جیسے رسالوں میں کام کرنا، تحریر کرنا اور نشر واشاعت کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں گناہ زیادتی اور زمین میں فساد پھیلانے پر تعاون کرنا ہے، اور گھٹیا چیزوں کو پھیلانے اور معاشرے کو خراب کرنے کی طرف دعوت دینا ہے۔ اللہ عزوجل نے فرمایاہے: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰـهَ ۖ إِنَّ اللّٰـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ "(المائدہ:2) "اور نیکی اور تقوے پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔" اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى, كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ, لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا, وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ, كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ, لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أوزارهم شَيْئًا"[1]
[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث(2674)