کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 684
" لأَنْ يَزْحَمَ رَجُلٌ خِنْزِيراً مُتَلَطِّخاً بِطِينٍ أَوْ حَمْأَةٍ ؛ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَزْحَمَ مَنْكِبِهِ مَنْكِبَ امْرَأَةٍ لا تَحِلُّ لَهُ "[1] "کوئی آدمی مٹی اور گندگی سے لت پت سور سے ٹکراجائے تو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ اس کا کندھاکسی ایسی عورت کے کندھے سے ٹکرائے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔" دونوں حدیثوں سے وجہ دلالت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم مرد کو پردے یا بغیر پردے کے کسی عورت کے چھونے کو جائز قرارنہیں دیا کیونکہ اس میں برا نتیجہ ہے اور اختلاط بھی اسی علت کی وجہ سے ناجائز قراردیا گیا ہے جو مذکورہ تحریر میں غورو فکر کرے گا تو اس کے لیے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ یہ کہنا کہ اختلاط فتنے تک لے جانے والا نہیں غلط ہے اور صرف کچھ لوگوں کا محض خیال ہے۔ ورنہ درحقیقت یہ فتنے تک پہنچانے والا ہے، اسی لیے شارع نے اسے ناجائز کیا صرف خرابی کے مادے کو کاٹتے ہوئے لیکن اس میں وہ استثنائی حالت داخل نہیں ہے جس کی ضرورت اور حاجت شدیدہ متقاضی ہو۔ ایسی صورت عبادگاہوں میں پیش آتی ہے، جیسا کہ حرم مکی اور حرم مدنی میں۔ لہٰذا ہم اللہ سے گمراہ مسلمانوں کی ہدایت اور ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اضافے اور حکمرانوں کو اچھے کام کرنے اور برے چھوڑنے کی، نیز بیوقوفوں کے ہاتھوں کو پکڑنے کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ انہ سمیع قریب"(سعودی فتوی کمیٹی) دوشیزاؤں سے خط و کتابت کا حکم : سوال:بذریعہ ڈاک نوجوان لڑکیوں سے خط و کتابت کا کیا حکم ہے ؟اور اگر فائدہ مند ہو تو پھر کیا حکم ہے؟ مثلاً کسی ادیبہ یا شاعرہ سے خط و کتابت ہو۔ جواب:لڑکیوں سے خط و کتابت اگر غیر محرم مردوں کی طرف سے ہو تو اصلاً ناجائز ہے کیونکہ اس پر فتنہ اور حرام کام مرتب ہو سکتے ہیں اگرچہ لڑکی ادب والی اور شاعرہ ہی
[1] ۔ضعیف جدا ۔ضعیف الترغیب والترہیب(2/2)