کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 683
جائے، لہٰذا جب اس حالت میں اختلاط سے روکا گیا ہے تو اس کے علاوہ میں تو بالا ولیٰ منع ہو گا۔ 8۔امام بخاری نے اپنی صحیح میں اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو سلام کے مکمل ہونے کے وقت عورتیں کھڑیں ہو جاتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ تھوڑی دیر ٹھہرتے، اسی کی دوسری روایت میں ہے: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوٹنے سے پہلے عورتیں فارغ ہو کر اپنے گھروں میں داخل ہو جاتیں۔" تیسری روایت میں ہے: "عورتیں جب فرضی نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں اور اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز مرد حضرات جس قدر اللہ چاہتا ٹھہرتے تو جب اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد حضرات پھر کھڑے ہو جاتے ۔" وجہ دلالت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالفعل اور عملی طور پر اختلاط سے منع کر دیا اور یہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ اس جگہ کے علاوہ بھی اختلاط منع ہے۔ 9۔امام طبرانی نے معجم کبیر میں معقل بن یسار سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لَأنْ يُطعَنَ في رأسِ أحدِكم بمِخيَطٍ من حديدٍ خيرٌ لهُ مِنْ أن يَمَسَّ امرأةً لا تَحِلُّ لهُ " .[1] "البتہ تم میں سے کسی ایک کے سر میں لوہے کی سوئی مار دی جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔" امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہا ہے کہ اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور امام منذری نے ترغیب و ترہیب میں اس کے راویوں کو ثقہ کہا ہے۔ 10۔امام طبرانی نے ہی ابو امامہ کی حدیث سے بھی بیان کیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] ۔صحیح ۔صحیح الجامع رقم الحدیث (5045)