کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 682
"اسْتَأْخِرْنَ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ ، عَلَيْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِيقِ "[1]
"پیچھے ہٹ جاؤ، یقیناً تمہارے لیے راستے کے درمیان چلنا جائز نہیں، راستے کے کناروں کو لازم پکڑو تو عورت اس قدر دیوار سے مل جاتی کہ اس کا لباس دیوار سے رگڑ کھانے کی وجہ سے دیوار کے ساتھ چمٹ جاتا۔"
یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔ ابن الاثیر نے "النہایۃ فی غریب الحدیث" میں"تحققن الطریق "کا معنی راستے کے بیچوں بیچ چلنا لکھا ہے۔
وجہ دلالت :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں رستے میں اختلاط کرنے سے منع کیا کیونکہ وہ فتنے تک پہنچانے کا ذریعہ ہے، لہٰذا اس کے علاوہ میں اختلاط کے جائز ہونے کے بارے میں بات کیسے کہی جا سکتی ہے؟
7۔امام ابو داؤد طیالسی وغیرہ نے اپنی سنن میں نافع سے بیان کیا ہے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسجد تعمیر کرائی تو عورتوں کے لیے الگ دروازہ بنایا اور فرمایا:
" لا يلج من هذا الباب من الرجال أحد "[2]
"اس دروازے سے کوئی آدمی داخل نہ ہو۔"
امام بخاری نے اپنی تاریخ کبیر میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ذکر کی ہے اور وہ عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" لا تدخلوا المسجد من باب النساء" [3]
"عورتوں کے دروازے سے مسجد میں داخل نہ ہوا کرو۔"
وجہ دلالت :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں کے دروازوں سے داخل ہونے اور نکلنے کے بارے میں مردوں اور عورتوں میں اختلاط سے منع کیا ہے تاکہ اختلاط کا سد باب کیا
[1] ۔حسن ۔صحیح الجامع رقم الحدیث (929)
[2] ۔مسند الطیالسی ،رقم الحدیث (1829)
[3] ۔ضعیف موقوف۔ سنن ابی داؤد رقم الحدیث (464)