کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 681
امام خطابی نے"معالم السنن "میں فرمایا کہ"تفل "بدبو ہے، کہا جاتا ہے:امراۃ تفلۃ اگر اس نے خوشبو نہ لگائی ہو اور "نساء تفلات"ایسی عورتیں جو خوشبو سے عاری ہوں۔
4۔اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً هي أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنْ النِّسَاءِ" [1]
"میں نے اپنے بعد کوئی فتنہ نہیں چھوڑا جو مردوں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دہ ہو۔"اسے امام بخاری و مسلم نے بیان کیا ہے۔
وجہ دلالت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا وصف یو ں بیان کیا کہ وہ مردوں پر فتنہ ہیں، لہٰذا فتنے میں ڈالنے والا اور پڑنے والا کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں؟یہ ناجائز ہے۔
5۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللّٰهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا،فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ؟ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا, وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَتْ فِي النِّسَاءِ"[2]
’’یقیناً دنیا سر سبز میٹھی ہے اور اللہ تمھیں اس میں خلیفہ بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہٰذا دنیا اور عورتوں سے بچ جاؤ۔ یقیناً بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کے حوالے سے تھا۔‘‘(اسے امام مسلم نے بیان کیا ہے)
وجہ دلالت : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بچنے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم و جوبی ہے، اس حکم پر اختلاط کے ہوتے ہوئے پابندی کیسے ہو سکتی ہے ؟یہ ممکن ہی نہیں ۔لہٰذا اختلاط بھی جائز نہیں ہو سکتا۔
6۔امام ابو داود نے اپنی سنن اور بخاری نے "الکنی"میں اپنی اپنی سندوں سے بیان کیا ہے کہ حمزہ بن ابو اسید انصاری جو اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہوئے سنا اور آپ مسجد سے باہر تھے تو رستے میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث (4808)صحیح مسلم رقم الحدیث (2740)
[2] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (2742)