کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 680
بسا اوقات وہ اس پر عبادت کو خراب اور زینت اور خشوع میں خلل پیدا کر سکتی ہیں، چنانچہ جب شارع نے عبادت کی جگہوں میں اختلاط نہ ہونے کے باوجود ان خطرات کا خدشہ ظاہر فرمایا ہے جہاں عورتیں مردوں سے صرف نزدیک ہوتی ہیں تو اختلاط کی صورت میں کیا حال ہوگا؟ 3۔امام مسلم نے اپنی صحیح میں عبد اللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے، کہتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: "إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلا تَمَسَّ طِيبًا"[1] "جب تم میں سے کوئی ایک مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے۔" امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں اور امام احمد اور شافعی نے اپنی اپنی سندوں سے اپنی مسندوں میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللّٰهِ مَسَاجِدَ اللّٰهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلاَتٌ"[2] "اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو لیکن انھیں گھر کے کام کاج کے عام لباس میں بغیر زیب و زینت کے نکلنا چاہیے۔" ابن دقیق العید فرماتے ہیں: "اس میں مسجد جانے والی کے لیے خوشبو کی حرمت ہے ،اور اس لیے کہ اس سے مردوں کی خواہش اور شہوت میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور کبھی یہ عورت کی شہوت کوتحریک دینے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔" نیز فرماتے ہیں: "خوشبو کے حکم میں اچھا لباس اور زیور پہننا جس کا اثر ظاہر ہو اور بن سنور کر قابل فخر حالت میں جانا بھی شامل ہے۔" حافظ ابن حجر نے فرمایا: "اسی طرح مردوں سے اختلاط بھی (ممنوع حکم میں ) داخل ہے۔"
[1] ۔صحیح مسلم ،رقم الحدیث (443) [2] ۔صحیح۔ سنن ابی داؤد، رقم الحدیث (565)