کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 679
"إِنَّ أَحَبَّ صَلاَة تُصَلِّيهَا الْمَرأَةُ إِلَى اللّٰهِ فِي أَشَدِّ مَكَانٍ فِي بَيْتِهَا ظُلْمَة"[1]
’’اللہ کے ہاں عورت کی سب سے بہتر نماز اس کی انتہائی اندھیرے والی جگہ کی ہے۔‘‘
ان دونوں احادیث کے ہم معنی بہت سی احادیث ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ عورت کی اپنے گھر کی نماز مسجد کی نماز سے بہتر ہے۔
وجہ دلالت : جب عورت کے حق میں مشروع ہے کہ اس کا اپنے گھر میں نماز ادا کرنا حتی کہ مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز ادا کرنے سے بھی بہتر ہے تو اس زمانے میں اختلاط (مردوزن) بدرجہ اولیٰ ممنوع قراردیا جائے گا۔
2۔امام مسلم اور ترمذی وغیرہمانے اپنی اپنی سندوں سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یوں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا."[2]
’’مردوں کی ابتدائی صفیں بہتر اور آخری بری ہیں ،اور عورتوں کی آخری صفیں اچھی اور ابتدائی بری ہیں۔‘‘
امام ترمذی اسے روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
وجہ دلالت:یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے مسجد میں آنے کی صورت میں مرد نمازیوں سے الگ رہنے کو مشروع قراردیا ہے۔ پھر ان کی ابتدائی صف کو برا اور آخری کو بہتر بیان کیا ہے۔ یہ اسی لیے ہے کہ لیٹ آنے والے مردوں کے اختلاط اور انھیں دیکھنے سے دور رہیں گی اور ان کی حرکات کو دیکھنے سے ان سے دل لگی کے خطرات سے دور رہیں گی۔ان کی ابتدائی صف کی مذمت اس لیے بیان فرمائی کہ یہ مذکورہ مقاصد کے برعکس ہے، مردوں کی اسی طرح آخری صف کو براقراردیا ،جبکہ مسجد میں ان کے ساتھ عورتیں بھی ہوں۔ فضیلت کے رہ جانے، امام کے نزدیک نہ ہونے اور دل کو مصروف کرنے والی عورتوں کے قریب ہونے کی وجہ سے ہی ہے اور
[1] ۔حسن ۔صحیح ابن خزیمہ (95/3)
[2] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث(440)