کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 678
حالانکہ اس دور میں عورتوں کی سر کشی بڑھ چکی ہے اور انھوں نے حیا کی چادر کواتاردیا ہے۔ بیگانے مردوں کے سامنے اپنی آرائش اور خوبصورتی کو ظاہر کرنا اور ان کے پاس ننگا ہونے اور ان کے خاوندوں اور ان کے سوا جن کے سپردان کا معاملہ کیا گیا ہے، ان کے اندر دینی حمیت و غیرت کی انتہائی قلت پائی جاتی ہے۔
سنت سے دلائل :
رہے سنت سے دلائل تو ہم دس دلائل کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں:
1۔امام احمد نے اپنی سند سے اپنی مسند کے اندر ابو حمید ساعدی کی بیوی اُم حمید سے بیان کیا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور عرض کی:اے اللہ کے رسول! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کو پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلاةَ مَعِي وَصَلاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ وَصَلاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي دَارِكِ وَصَلاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ وَصَلاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِي"[1]
"میں بخوبی جانتا ہوں کہ تو میرے ساتھ نماز کو پسند کرتی ہے جبکہ تیرے گھر میں تیری نماز تیرے حجرے میں نماز سے بہتر ہے اور تیرے حجرے کی نماز تیرے گھر (کے صحن ) کی نماز سے بہتر ہے اور تیرے گھر (کے صحن ) کی نماز تیری قوم کی مسجد کی نماز سے بہتر ہے اور تیری قوم کی مسجد میں تیری نماز میری مسجد میں نماز سے بہتر ہے۔"
راوی کہتے ہیں کہ اُم حمید رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے ان کے گھروں میں سے آخری اور اندھیرے والے گھر کے اندر مسجد بنادی گئی تو اللہ کی قسم وہ فوت ہونے تک اسی میں نماز پڑھتی رہیں۔
ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں:
[1] ۔حسن۔ مسند احمد (371/6)