کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 677
وہ بھی خرابی تک پہچانے کا ذریعہ ہے۔ پانچویں دلیل:اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ"(غافر:19) "وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں ۔" عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ آدمی کسی کے گھر جاتا ہے ،ان کے ہاں رات گزارتا ہے، ان میں ایک خوبصورت عورت ہے، وہ اس کے پاس سے گزرتی ہے تو جب وہ غافل ہو تے ہیں تو وہ اس کو کن انکھیوں سے دیکھتا ہے تو جب وہ متوجہ ہوتے ہیں تو اپنی نظر کو پست کر لیتا تو جب وہ غافل ہوتے ہیں تو ملاحظہ کرنے لگ جا تا ہے، جب وہ متوجہ ہوتے ہیں نظر کو پست کر لیتا ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل کی کیا حالت ہے کہ وہ چاہتا ہے: کاش!وہ اس کی شرمگاہ کو دیکھ لے؟کاش! اس کے بس میں ہو تو وہ اس سے زنا بھی کر گزرے؟ وجہ دلالت :اللہ تعالیٰ نے ایسی عورت کی طرف چوری چوری دیکھنے کو، جس کا دیکھنا حلال نہیں ہے،آنکھوں کی خیانت بتائی تو بھلا اختلاط کا کیا حکم اور معاملہ ہو گا؟ چھٹی دلیل: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى " (الاحزاب :33) "اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو۔" وجہ دلالت : اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو اپنے گھروں میں یہی رہنے کا حکم دیا جو کہ انتہائی زیادہ پاکیزہ اور پاکدامن تھیں اور یہ خطاب عام ہو گا اگر کوئی دلیل اس کو خاص کرنے پر راہنمائی نہ کرتی ہو جبکہ یہاں کوئی ایسی دلیل نہیں جو خصوصیت پر دلالت کرتی ہو تو جب وہ گھروں میں ہی رہنے کی پابند ہیں، الایہ کہ کوئی ضرورت ان کے نکلنے کو چاہتی ہو تو گزشتہ صورت میں اختلاط کو کیوں کر جائز کہا جا سکتا ہے؟