کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 676
" اَلْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَوة"[1]
"دونوں آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا (گندی فحش باتیں ) سننا ہے، زبان کا زنا (فحش) گفتگو ہے، ہاتھ کا زنا (ناجائز چیز کا) پکڑناہے اور پاؤں کا زنا (بے حیائی کے اڈوں کی طرف ) چلنا ہے۔"
دیکھنا زنا اس لیے ہے کہ دیکھنے والا عورت کے محاسن سے لطف اٹھاتا ہے اور یہی دیکھنے والے کے دل میں عورت کے گھر کرنے کا ذریعہ بنتا ہے تو وہ اس کے دل سے گڑجاتی ہے، لہٰذا وہ اس سے برائی کے ارتکاب کی طرف کوشش کرتا ہے، جبکہ شارع نے اس کی طرف دیکھنے سے منع کیا ہے کیونکہ یہ خرابی تک لے جانے والا ہے اور یہی خرابی اختلاط سے حاصل ہوتی ہے تو اسی طرح اختلاط سے بھی منع کردیا کیونکہ وہ بھی نظر کی لذت بلکہ اس سے زیادہ بری چیز اور ناپسندیدہ انجام کا ذریعہ اور وسیلہ ہے۔
تیسری دلیل:گزشتہ دلائل گزر چکے ہیں جو اس بارے میں ہیں کہ عورت پردہ ہے اور اسے اپنا تمام جسم چھپانا ضروری ہوگا کیونکہ عورت کے بدن سے کسی چیز کا ننگا ہو نا اس کی طرف دیکھنے کی دعوت دے گا اور دیکھنا دل سے وابستگی کا ذریعہ ہو گا ،پھر اسے حاصل کرنے کے لیے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں اور اختلاط کا بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
چوتھی دلیل:اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
"وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ" (النور:31)
"اور اپنے پاؤں (زمین پر) نہ ماریں تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں۔"
وجہ دلالت:اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے سے منع کیا ہے اگرچہ یہ جائز ہے، اس لیے کہ یہ (پاؤں مارنا)مردوں کے لیے پازیبوں کی آواز سننے اور اس کی طرف متوجہ ہونے اور پھر مردوں کے دلوں میں ان عورتوں کی طرف شہوت بھڑکانے کا ذریعہ نہ بنے۔ ایسے ہی اختلاط سے بھی روک دیا جائے گا کیونکہ
[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (2657)