کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 675
کہ وہ اسے ہوائے نفس کی طرف مائل کرے اور پھر وہ اس کے بعد حصول مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائےگا۔ دوسری دلیل :اللہ نے مردوں اور عورتوں کونظریں پست کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللّٰـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿٣٠﴾ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ "( النور:30،31) "مومن مردوں سے کہہ دے: اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے ، بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں ۔اور مومن عورتوں سے کہہ دے: اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں۔" وجہ دلالت :دونوں آیتوں میں ایماندار مردوں اور عورتوں کونظر پست رکھنے کا پابند کیا گیا ہے اور اللہ کا حکم وجوب پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ نے واضح کیا ہے کہ یہ زیادہ پاکیزہ ہے، البتہ شارع نے اچانک پڑ جانے والی نظر سے درگزر کیا ہے۔ امام حاکم نے مستدرک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: " يَا عَلِيُّ! لا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ،فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ"[1] "اے علی !نظر کے پیچھے نظر کو نہ لگا ،پہلی تیرے لیے جائز ہو گی اور دوسری جائز نہیں ہو گی۔" امام حاکم اسے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، جبکہ بخاری و مسلم نے اسے بیان نہیں کیا۔ امام ذہبی نے اپنی "تلخیص"میں اس قول کی موافقت کی ہے۔ اس معنی و مفہوم کی کئی روایات آئی ہیں۔ اللہ نے نظر پست رکھنے کا پابند کیا ہے کیونکہ ایسی عورت کو دیکھنا جسے دیکھنا حرام ہے آنکھوں کا زنا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] ۔حسن۔ سنن ابی داؤد رقم الحدیث (2149)