کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 672
جواب:چاہے جو بھی مضمون ہو اس میں دھوکہ جائز نہیں کیونکہ امتحان کا مقصد اس مضمون میں طالب کے علمی معیار کو متعین کرنا اور اس کی اصلاح کرنا ہے ۔اور اس لیے بھی کہ خیانت کے ذریعہ اس میں سستی دھوکہ اور کمزور طالب علم کو محنتی پر مقدم کرنا لازم آتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"من غشنا فليس منا"[1] ’’جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
حدیث میں"غش" کا لفظ ہر چیز کے لیے عام ہے۔ واللہ اعلم۔(فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین)
مصروفیت کے ساتھ قرآنی تلاوت سننا:
سوال:بعض دفعہ میں زیادہ وقت باورچی خانہ میں گزارتی ہوں کیونکہ اپنے خاوند کے لیے کھانا تیار کرنا ہو تا ہے اور اپنے اس وقت سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے میں قرآن مجید سننا چاہتی ہوں، چاہے وہ ٹیپ سے ہو یا ٹیلی ویژن سے تو کیا میرا یہ عمل ٹھیک ہے؟یا میرے لیے ایسا کرنا غیر مناسب ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ" (الاعراف:204)
"اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہوتاکہ تم پر رحم کیا جائے۔"
جواب:انسان کے مشغول ہوتے ہوئے ٹیپ یا ٹیلی ویژن سے قرآن کریم سننے میں کوئی حرج نہیں ۔اس کا اس فرمان سے کوئی اختلاف نہیں کہ "فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا "(غور سے سنو اور خاموش ہو جاؤ)کیونکہ "انصات"(خاموش رہنا) حتی الامکان مقصود ہے، اور جو کسی کام میں مصروف ہو وہ اپنی طاقت کے مطابق قرآن کے لیے خاموشی ہی رہے۔
[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (101)