کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 671
دوران امتحان کسی کو بتانا یا نقل کروانا : سوال:میں دوران امتحان امتحان گاہ میں اپنی سہیلی کو، جب وہ مجھ سے جواب لکھا نے کی التجا کرتی ہے، کسی بھی ممکن وسیلے اور ذریعے سے جواب نقل کرا دیتی ہوں۔ اس میں شریعت کی کیا رائے ہے؟ جواب:امتحان میں دھوکہ جائز نہیں اور نہ اس میں کسی چیز پر دھوکہ کرنے والی کی مدد کرنا ہی جائز ہے، چاہے وہ پوشیدہ کلام سے ہو یا ساتھ والے کو پورا جواب یا جواب کا کچھ حصہ جوابی کاپی سے نقل کرانے سے ہو یا اس کے علاوہ دیگر حیلوں کے ذریعے کیونکہ اس میں معاشرے کا نقصان ہے اس اعتبار سے کہ یہ دھوکہ دینے والا ایسی ڈگری لے لے گا جس کا وہ مستحق نہیں ہے اور ایسے عہدے پر فائز ہو گا جس کا وہ اہل نہیں ہے، بلاشبہ یہ نقصان اور دھوکہ ہے۔(فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن جبرین رحمۃ اللہ علیہ ) امتحان سے باجماعت نماز کا رہنا : سوال:اگر سارے یا نصف امتحان کا وقت باجماعت نماز کے مقابلے میں آجائے تو کیا واجب ہے؟ جواب:یہ جس نے اس سکول میں داخلہ لیا جس کے تمام نظام اور طریقے شریعت کے حکم کے موافق نہیں تو بدیہی بات ہے کہ انجام بھی شریعت کے مخالف ہوگا۔ تو جو شریعت کا التزام چاہتا ہے وہ ایسی تعلیم اور نظام کے پیچھے نہ پڑے جو شریعت کے مخالف ہو۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ سوال پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اس لیے کہ ان سالوں کو وہ ضائع نہیں کرسکتا جنھیں اس نے تحصیل علم کے لیے وقف کردیا ہے، لہٰذا علم کی تلاش صحیح علمی نظام کی موافقت میں شروع کرنا آدمی کا فریضہ ہے، اس لیے کہ جس کی بنیاد درست ہوگی وہ درست ہو گا اور جس کی بنیاد برائی پر ہو گی وہ برا ہو گا۔(علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ ) انگریزی زبان کے کورس وغیرہ میں دھوکہ اور خیانت کا حکم : سوال:انگریزی زبان اور دوسرے علوم، مثلاً ریاضی وغیرہ میں دھوکے کا کیا حکم ہے؟