کتاب: عورتوں كےلیے صرف - صفحہ 58
بچوں کی قے کا حکم
سوال:کیا بچوں کی قے نجس ہے یا نہیں؟
جواب:تمام اشیاء میں اصل یہ ہے کہ وہ پاک ہیں الایہ کہ ان کی حرمت کی کوئی دلیل ہو۔اور قے کے معدے سے نکلنے اور اس کی بوبدلنے کی وجہ سے ہم اس پر نجس ہونے کا حکم نہیں لگاسکتے،لہذا اس میں اصل یہ ہے کہ وہ پاک ہے اور وضو نہیں توڑتی۔رہے وہ لوگ جنھوں نے قے کو پاخانے پر قیاس کیا ہے،اس لیے کہ وہ معدے سے نکلتی ہے اور اس کی بو اور ذائقہ بدل جاتا ہے تو ان پر یہ لازم ہے کہ وہ ڈکار کو ہوا(پھسکی وغیرہ) پر قیاس کیا کریں۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن عبدالمقصود)
ولادت کے وقت خون اور پانی سے طبیب اور طیبہ کےآلودہ کپڑوں کا حکم:
سوال:کیابچے کی ولادت کے وقت بہنے والے پانی یا خون سے آلودہ کپڑوں میں طبیب یا طبیبہ کی نماز درست ہے جبکہ عمل ولادت کی بعض حالتوں کے پیش نظر ہر نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرنا مشکل ہے؟
جواب:حمدوثنا کے بعدگزارش یہ ہے کہ ایسی صورت میں طبیب یا طبیبہ پاک کپڑے اپنے پاس رکھیں اور بوقت نماز وہ آلودہ کپڑے اتار کر ان پاک کپڑوں میں نماز ادا کریں ،اس میں کوئی مشقت بھی نہیں ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی)
جس پانی کو تنہا عورت نے استعمال کیا؟
سوال:ایسے پانی کے متعلق کیا حکم ہے جس کو تنہا عورت نے استعمال کیا ہو؟
جواب:کسی فقیہ کایہ قول کہ ایسا تھوڑا سا پانی کسی(محدث) آدمی کے حدث کو دور نہیں کرتا جس پانی سے عورت نے تنہا حدث کے بعد کامل طہارت حاصل کی ہو۔یہ مسئلہ مسائل منفردہ میں سے ہے جبکہ جمہور اہل علم کا موقف یہ ہے کہ ایسا پانی مرد کے حدث کو زائل کردیتا ہے لیکن یہ پانی ناقص ہے(اور اس کے متعلق جومنع کی روایت ہے اس میں ) صرف نہی تنزیہی ہے تاکہ اس حدیث اور میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کہ