کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 343
ارشاد ہے:
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْہُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ، } (البقرہ: ۱۵۹، ۱۵۸)
’’یقینا جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی دلیلوں او ر ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم اسے لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر چکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور اصلاح کریں اور بیان کریں تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں۔‘‘
اس لیے تمہارے باطل اور لغویات اور زندقہ پر چپ رہنا جائز نہیں۔ کیونکہ تم لوگوں نے عالم اسلام کو پچھلے دور میں بھی اور موجودہ دور میں بھی خراب کر رکھا ہے۔ آج تک تم لوگوں کا یہی وطیرہ چلا آرہا ہے کہ لوگوں کو اللہ کی عبادت سے نکال کر مشائخ کی عبادت میں طرف لے جاتے ہو۔ توحید سے نکال کر شرک اور قبر پرستی کی طرف لے جاتے ہو۔ سنت سے نکال کر بدعت کی طرف لے جاتے ہو اور کتاب و سنت کے علم سے نکال کر اللہ ، فرشتے، رسول اور جنوں کو دیکھنے کا دعویٰ کرنے والوں سے بدعات و خرافات اور جھوٹ فریب حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہو۔ تم زندگی بھر باطنی فرقوں کے مدد گار اور سامراج کے خادم رہے۔ اس لیے قطعاً جائز نہیں کہ تم لوگوں نے جو گمراہی اور شرک پھیلا رکھا ہے اور لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث سے بہکا کر اپنے بدعتیانہ اذکار اور مشرکوں جیسی سیٹی اور تالی والی عبادت کی طرف لے جاتے ہو اس پر خاموشی اختیار کی جائے۔
اس مرحلہ پر صوفی لازماً خاموش ہو جائے گا۔ وہ سمجھ جائے گا کہ اس کا پالا ایک ایسے شخص سے پڑا ہے جس کو اس کے باطل کا پورا پورا علم ہے اس کے بعد یا تو اللہ تعالیٰ اس کو صحیح