کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 342
اب اگر صوفی اس کا اقرار کر لے ، اس کے باوجود ان زندیقوں کی پیروی کرے تو انہیں جیسا کافر وہ بھی ہوا۔ اور کہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا بات ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں۔ البتہ میں اس کے کہنے والوں کی ایمان اور پاکی اور ولایت کا یقین رکھتا ہوں تو اس سے کہو کہ یہ واضح عربی کلام ہے۔ اس میں کوئی خفا نہیں اور یہ ایک معروف عقیدے یعنی وحدۃ الوجود کا پتہ دیتا ہے اور یہ ہندوؤں اور زندیقوں کا عقیدہ ہے جسے تم لوگوں نے اسلام کی طرف منتقل کر لیا ہے۔اور اسے قرآنی آیات اور نبوی احادیث کا جامہ پہنا دیا ہے۔ اس کے بعد اگر صوفی یہ کہے کہ اولیاء کی شان میں گستاخی نہ کرو ورنہ وہ تم کو برباد کر دیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی میرے ولی سے دشمنی کرے میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ تو اس کے جواب میں تم کہو کہ یہ لوگ اولیاء نہیں ہیں بلکہ زندیق و بددین ہیں جنہوں نے اوپر سے اسلام کا پردہ ڈال رکھا ہے اور میں تمہارے ساتھ اور تمہارے خداؤں کے ساتھ کفر کر ہا ہوں۔ {فَکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ، اِنِّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیْ وَ رَبِّکُمْ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ،} (ہود:۵۵، ۵۶) ’’لہٰذا تم سب مل کر میرے خلاف داؤ چلاؤ پھر مجھے مہلت نہ دو۔ میں نے اللہ پر بھروسا کر رکھا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ روئے زمین پر جو بھی چلنے والا ہے اللہ نے اس کی چوٹی پکڑ رکھی ہے۔ بے شک میرا پروردگار صراطِ مستقیم پر ہے۔‘‘ پھر اگر صوفی یہ کہے کہ ضروری ہے کہ ہم صوفیوں کے حق میں ان کے حالات کو تسلیم کر لیں کیونکہ انہوں نے حقائق کو دیکھا ہے اور دین کے باطن کو پہچانا ہے۔ تو اس سے کہو کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔اگر کوئی شخص اپنی بات کے ذریعے سے کتاب و سنت کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کے درمیان کفر و زندقہ پھیلائے تو اس پر چپ رہنا جائز نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا