کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 341
کے اندر لکھ رکھ ہے۔ یہ شطح یا حال کا غلبہ نہیں تھا جیسا کہ لوگ کہا کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں اگر صوفی یہ کہے کہ ان لوگوں نے ایسی زبان میں بات کی ہے جسے ہم نہیں جانتے تو اس کو کہو کہ ان لوگوں نے اپنی بات عربی زبان میں لکھی ہے اور ان کے شاگردوں نے ان کی شرح کی ہے اور مذکورہ باتوں کو دو ٹوک لفظوں میں بیان کیا ہے۔
اگر اس کے جواب میں صوفی یہ کہے کہ ایسی زبان ہے جو اہل تصوف کے ساتھ خاص ہے اور اسے دوسرے لوگ نہیں جانتے تو اس سے یہ کہو کہ ان کی یہ زبان عربی ہی زبان تو ہے جس کو انہوں نے لوگوں کے درمیان عام کیا ہے اور اپنے ساتھ خاص نہیں کیا ہے اور اسی بنیاد پر علمائے اسلام نے حلاج کو اس کی باتوں کے سبب کافر قرار دیا اور اسے ۳۰۹ھ میں بغداد کے پل پر پھانسی دی گئی۔ اسی طرح علمائے اسلام نے ابن عربی کے بھی کافر زندیق ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگر صوفی کہے کہ علمائے شریعت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ وہ علماء ظاہر ہیں حقیقت نہیں جانتے۔ تو اس سے کہو کہ یہ ’’ظاہر‘‘ تو کتاب و سنت ہے اور جو ’’حقیقت ‘‘ اس ’’ظاہر‘‘ کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ پھر اس سے یہ بھی پوچھو کہ صوفیانہ حقیقت کیا ہے جس کا تم لوگ دعویٰ کرتے ہو؟ اگر وہ کہے کہ یہ ایک راز ہے جس کو ہم نہیں بتلاتے تو اس سے کہو کہ جی نہیں تم لوگوں نے اس راز کو آشکارا کر دیا ہے اور پھیلا دیا ہے ۔ اور وہ راز یہ ہے کہ تمہارے خیال میں ہر موجود اللہ ہے، جنت و جہنم ایک ہی چیز ہے ، ابلیس اور محمد ایک ہی ہیں۔ اللہ ہی مخلوق ہے او ر مخلوق ہی اللہ ہے۔ جیسا کہ تمہارے امام شیخ اکبر نے کہا ہے:
اَلْعَبْدُ رَبٌّ وَالرَّبُّ عَبْدٌ
یَا لَیْثَ) شَعْرِیْ مَنِ الْمُکَلِّفُ
اِنْ قُلْتَ عَبْدٌ فَذَاکَ رَبُّ
وَاِنْ قِیْلَ رَبُّ اَنّٰی یُکَلَّفُ
’’بندہ رب ہے اور رب بندہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر مکلف کون ہے؟ اگر کہا جائے کہ بندہ … تو وہی رب ہے۔ا گر کہا جائے کہ رب … تو پھر مکلف کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘