کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 340
اگر اس کے جواب میں صوفی یہ کہے کہ ہاں! ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ ابلیس اور اس کے ماننے والے جہنمی ہیں تو یاد رکھو کہ وہ تم سے جھوٹ بول رہا ہے اور
اگر یہ جواب دے کہ ہم ابلیس کو جہنمی نہیں مانتے ، بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس نے جو کچھ کیا تھا اس سے توبہ کر لی اور مومن و موحد ہو گیا، جیسا کہ ان کے استاد حلاج کا کہنا ہے۔ تو اس سے کہو کہ اب تم کافر ہو گئے کیونکہ تم نے کتاب اللہ ، احادیث رسول اور اجماع اُمت کی مخالفت کی۔ اس لیے کہ ان سب ذریعوں سے ثابت ہے کہ ابلیس کافر اور جہنمی ہے۔
صوفی سے یہ بھی کہو کہ تمہارے شیخ اکبر ابن عربی کا فیصلہ ہے کہ ابلیس جنتی ہے اور فرعون جنتی ہے(جیسا کہ ’’ فصوص الحکم ‘‘ میں لکھا ہے) اور تمہارے استاد اعظم حلاج کا کہنا ہے کہ ابلیس اس کا پیشوا اور فرعون اس کا پیر ہے( جیسا کہ ’’طواسین‘‘ ص: ۵۲ میں لکھا ہے) اب بتاؤ کہ اس بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ جواب میں اگر وہ ان باتوں کو ماننے سے انکار کر دے تو سمجھ لو کہ وہ کٹ حجت اور حقیقت کا منکر ہے یا جاہل اور ناواقف ہے اور اگر وہ بھی کافر ہوا اور ابلیس اور فرعون کا بھائی ٹھہرا۔لہٰذا جہنم میں ان سب کا ساتھ اس کے لیے کافی ہے۔
اگر وہ تلبیس سے کام لے اور کہے کہ ان کی بات شطحیات میں سے ہے۔ انہوں نے اسے حال اور سکر کے غلبے کے وقت کہا تھا تو اس سے کہو تم جھوٹ بولتے ہو۔ یہ بات تو لکھی ہوئی کتابوں میں موجود ہے اور ابن عربی نے اپنی کتاب ’’ فصوص‘‘ کو یوں شروع کیا ہے:
(( اِنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فِیْ مُبَشِّرَۃٍ فِیْ مَحْرُوْسَۃِ دِمَشْقَ وَ اَعْطَانِیْ ہٰذَا الْکِتَابَ وَقَالَ لِیَ اخْرُجْ بِہٖ عَلَی النَّاسِ۔))
’’میں نے محروسہ دمشق کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھے یہ کتاب دی اور فرمایا : اسے لوگوں کے سامنے برپا کرو۔‘‘
اسی کتاب میں ابن عربی نے بیان کیا ہے کہ ابلیس اور فرعون اللہ کی معرفت رکھتے تھے اور نجات پائیں گے۔ فرعون کو موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ اللہ کا علم حاصل تھا اور جس نے کسی بھی چیز کی پوجا کی اس نے اللہ ہی کی پوجا کی۔اسی طرح حلاج نے بھی اپنی ساری کفریات کو کتاب