کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 339
واقعات کو دیکھتا ہے۔ پس ولی کے علم سے ( ان کے بقول) آسمانوں اور زمین کا ایک ذرّہ بھی باہر نہیں۔ اس لیے صوفی سے پہلا سوال یہ کرنا چاہیے کہ آپ لوگ دین کا ثبوت کہاں سے لاتے ہیں؟ یعنی اپنا عقیدہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ اگر وہ کہے کہ کتاب و سنت سے حاصل کرتے ہیں تو اس سے کہو کہ کتاب و سنت کی گواہی تو یہ ہے کہ ابلیس کافر ہے اور وہ اور اس کے پیرو کار جہنمی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْٓا اَنْفُسَکُمْ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَ مَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ، } (ابراہیم: ۲۲) ’’اور جب معاملات کا فیصلہ کر دیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی اختیار تو تھا لیکن البتہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میری بات مان لی لہٰذا مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد کر سکتا ہے اور نہ تم میری فریاد کر سکتے ہو۔ تم نے پہلے مجھے شریک ٹھہرایا میں اس کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔ یقینا ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ تمام مفسرین سلف کا اجماع ہے کہ یہاں شیطان سے مراد ابلیس ہے اور ’’تم میری فریاد نہیں کر سکتے‘‘ کا مطلب تم مجھے چھڑا اور بچا نہیں سکتے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ہے۔ تو اب اے صوفیو! سوال یہ ہے کہ کیا ابلیس کے بارے میں آپ لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے؟