کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 338
لیکن واضح رہے کہ ان باتوں سے بحث کا آغاز کرنا پورے طور پر غلط ہے اور باوجودیکہ یہ ساری باتیں بدعت اور خلافِ شریعت ہیں، اور انہیں دین میں گھڑ کر داخل کیا گیا ہے، لیکن تصوف کی جو باتیں پس پردہ ہیں وہ ان سے کہیں زیادہ کڑوی اور خطرناک ہیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ یہ باتیں فروع کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا اُصو ل کو چھوڑ کر ان باتوں سے بحث کا آغاز کرنا درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ بھی جرائم ہیں اور خلافِ شریعت ہیں، لیکن تصوف کے اندر جو ہولناک باتیں ، جو گھڑنت، جو بد ترین کفریات اور جو گندے مقاصد پائے جاتے ہیں ان کے مقابلے میں مذکورہ بالا باتیں بہت معمولی اور ہیچ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جو شخص صوفی سے بحث کرے وہ فروعی اور شکلی باتو ں کے بجائے اُصولی اور بنیادی باتوں سے ابتدا کرے۔
غالباً اسلام اور تصوف کا اصل جوہری اختلاف پڑھ لینے کے بعد آپ کو سمجھ میں آگیا ہو گا کہ بحث کی ابتدا کہاں سے کرنی چاہیے۔ یعنی سب سے پہلا سوال ماخذ دین کے متعلق ہونا چاہیے کہ دین کہاں سے لیا جائے اور عقیدہ و عبادت کس چیز سے ثابت کی جائے، یعنی دین اور عقیدہ و عبادت کے حاصل کرنے کا ماخذ کیا ہو؟ اسلام اس ماخذ کو صرف کتاب و سنت میں محصور کرتا ہے کسی بھی عقیدے کا اثبات قرآن کی نص یا رسول کے ارشاد کے بغیر جائز نہیں اور کسی بھی شریعت کااثبات کتاب و سنت یا اس کے موافق اجتہاد کے بغیر جائز نہیں او ر اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی۔کتاب اللہ اور سنت رسول کے علاوہ کوئی معصوم نہیں۔
مگر مشائخ تصوف کا خیال ہے کہ وہ دین کو بغیر کسی واسطہ کے براہِ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں اور براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ ان کی مجلسوں اور ان کے ذکر کے مقامات میں تشریف لاتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنا دین فرشتوں سے حاصل کرتے ہیں اور جنوں سے حاصل کرتے ہیں۔ جنہیں رو حانی کہتے ہیں اور کشف حاصل کرتے ہیں جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ولی کے دل پر غیب کی باتیں کھل جاتی ہیں اور وہ زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو اور گزشتہ او ر آئندہ کے سارے