کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 261
سنن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے:
((لَا تَتَّخِذُوْا قَبْرِیْ عِیْدًا وَصَلُّوْا عَلٰی حَیْثُمَا کُنْتُمْ فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ۔)) [1]
’’میری قبرکو جشن( میلاد) نہ بنالینا ، تم جہاں کہیں بھی رہومجھ پردرود بھیجتے رہنا ، تمہارادرود مجھ تک پہنچ جائے گا۔ ‘‘
نیزفرمایا:
((مَا مِنْ رَّجُلٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلَّا رَدَّ اللّٰہُ رُوْحِیْ حَتّٰی أَرُدَّ۔)) [2]
’’جو بندہ بھی مجھ پر سلام پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح لوٹاتا ہے اور میں جواب دیتا ہوں۔‘‘
ارشاد ہے:
((اِنَّ اللّٰہَ وَکَّلَ بِقَبْرِیْ مَلَائِکَۃً یَّبْلُغُوْنِیْ عَنْ اُمَّتِیَ السَّلَامَ۔)) [3]
’’اﷲ نے میری قبرپرفرشتے تعینات کررکھے ہیں ، جومیری امت کاسلام مجھے پہنچا دیا کرتے ہیں۔ ‘‘
نیزارشاد ہے:
((اَکْثِرُوْا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ، فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَیَّ ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَیْکَ وَقَدْ أَرَمْتَ؟ یَقُوْلُوْنَ بَلَیْتَ۔ فَقَالَ: ’’ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ
[1] ) احمد: اورابوداود نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسن سند سے روایت کی ہے: مسنداحمد: (۲؍۳۶۷ ، (۰۴۲ ۲)
[2] ) احمد اور ابوداودنے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، دیکھئے: مسنداحمد: ۲؍۵۲۷ ، ابوداود: ۲؍۵۳۴ ، المناسک ، زیارۃ القبور ، (۲۰۴۱) مولف رحمہ اﷲ نے اقتضاء میں بیان کیاہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر ہے ، دیکھئے :اقتضاء الصراط المستقیم:تحقیق:استاذی ڈاکٹرناصر العقل ، ۲؍۶۵۸۔
[3] ) احمد ، نسائی ، اوردارمی نے عبداﷲ ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ نسائی ، السہو ، السلام علی النبی ﷺ ، ۳؍۴۳۔ دارمی ، ۲؍۳۱۷ ، الرقائق ، فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ۔