کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 260
الْقِیَامَۃِ ۔ )) [1]
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتاہے تو اس کی قبر پر مسجدبنالیتے ہیں ، اور اس میں ان کی تصویرنقش کردیتے ہیں۔ قیامت کے دن یہی لوگ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔ ‘‘
مسنداحمد اور ابن ابی حاتم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ:
(( اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِکُہُمُ السَّاعَۃُ وَہُمْ اَحٖیَائٌ ، وَہُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ۔)) [2]
’’لوگوں میں انتہائی بدترین وہ ہوں گے جوزندہ ہوں گے اور قیامت آجائے گی اور وہ بھی جوقبروں کوعبادت گاہ بنالیتے ہیں۔ ‘‘
صحیح مسلم میں ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا تَجْلِسُوْا عَلَی الْقُبُوْرِ وَلَا تُصَلُّوْا اِلَیْہَا۔)) [3]
’’تم قبروں پرنہ بیٹھو ، نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو۔ ‘‘
مؤطامیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ، آپ نے دعافرمائی:
((اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثَنَا یُعْبَدُ اشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی قَوْمٍ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) [4]
’’ اے اﷲ! میری قبرکوپوجاجانے والا بت نہ بنا۔ ان لوگوں پراﷲ تعالیٰ کاسخت قہر نازل ہوا ، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کومسجدیں بنالیاتھا۔ ‘‘
[1] ) بخاری: الجنائز ، بناء المسجد علی القبر (۱۳۴۱)۔ مسلم: المساجدومواضع الصلاۃ ، النہی عن بناء المساجد علی القبور (۵۲۸)۔
[2] ) مسنداحمد:عن ابن عباس ، ۱؍۴۳۵ ، وابن حبان ، فی موارد الظمأن ، ص (۱۰۴)۔
[3] ) مسلم:الجنائز ، النھی عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیہ ، (۹۷۲)۔
[4] ) موطاامام مالک:قصرالصلاۃ فی السفر ، جامع الصلاۃ ، (۸۵) مسند احمد: ۱۳؍۸۶ ، رقم (۷۲۵۲) تحقیق احمد شاکر۔