کتاب: اولیاء حق و باطل - صفحہ 246
ہوئی ، جس پر آپ نے اس کے لیے دعا کی ، اللہ نے اس کی آنکھیں لوٹا دیں۔ ‘‘[1] عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ دو ہزار درہم صدقہ اپنی آستین میں رکھ کر نکلتے تھے اور جو سائل بھی ملتا اسے گنے بغیر دیتے جاتے تھے ، پھر جب وہ گھر واپس آتے تو مال کی تعداد کم ہوتی تھی اور نہ وزن کم ہوتا۔ [2] آپ کا گزر ایک ایسے قافلہ سے ہوا جسے شیر نے گھیر رکھا تھا۔ آپ نے آکر اپنے کپڑوں سے شیر کا منہ مس کیا ، پھر اپنا پائوں اس کی گردن پر رکھ کر فرمایا! تو تو رحمن کا ایک کتا ہے ، اور مجھے شرم آتی ہے کہ رحمن کے سوا اور چیز سے ڈروں۔ اس کے بعد قافلہ سلامتی کے ساتھ گزرگیا۔ [3] آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جاڑے کے موسم میں ان کے لیے وضو کا پانی آسان ہو جائے ، چنانچہ آپ کو ایسا پانی ملنے لگا جس سے بھاپ اٹھتی تھی۔[4] انہوں نے رب سے دعا کی کہ میرے دل میں شیطان داخل نہ ہو ، چنانچہ اس دعا کے بعد شیطان کو ان پر قدرت نہ رہی۔ [5] حسن بصری رحمہ اللہ حجاج بن یوسف سے روپوش ہو گئے ، حجاج کے لوگ چھ مرتبہ ان کے یہاں آئے ، آپ نے دعا کی چنانچہ انہیں نہ دیکھ سکے۔ ‘‘ [6] ایک خارجی آپ کو ایذا پہنچایا کرتا تھا ، آپ نے بد دعا کی ، چنانچہ وہ گر کر ہلاک ہو گیا۔ [7] صلہ بن اشیم کا گھوڑا جنگ کی حالت میں مر گیا۔ انہوں نے دعا کرتے ہو ئے فرمایا:
[1] ) جامع العلوم و الحکم لابن رجب: ص۔۳۲۲ [2] ) کتاب الزہد لابن المبارک :ص۔۲۹۵ ، والرسالۃ القثیریۃ:للقثیری ، ۲؍۶۸۸۔ [3] ) حلیۃ الاَولیائ:۲؍۹۲۔ [4] ) کتاب الزہد: لا بن المبارک ، ص ۔ ۲۹۵۔ [5] ) کتاب الزہد لابن المبارک :ص ۔ ۲۹۵ ، الرسالۃ القثیریۃ ، للقثیری:۲؍۷۰۷۔ [6] ) محقق فرماتے ہیں: لم اَقف علی شیء من ھذا ، مجھے اس کی معلومات حاصل نہ ہوسکی۔ [7] ) جامع العلوم و الحکم لا بن رجب: ص۔۳۲۲)۔