کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 314
اپنے عمل سے رد کردیا ہے۔ اس لئے مسلم ماہرینِ تعلیم سے گذارش ہے کہ وہ اپنے مدارس، سکول وکالجوں کے لئے ایک خصوصی نصاب تعلیم ترتیب دیں، جس میں ان تمام گمراہ اور باطل نظریات کی حقیقت واضح کرکے اسلامی اصول ونظریات کے محاسن وخوبیوں کو بچوں کے دل ودماغ میں راسخ کریں۔ 3۔ معاشرہ : معاشرے کی اصلاح کیلئے اسلام نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْ مُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُوْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ﴾(آل عمران: 110) ترجمہ : تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کیلئے برپا کی گئی ہے، تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اﷲ تعالیٰ پرایمان رکھتے ہو۔ جس معاشرے میں نیکیوں کا حکم اور برائیوں سے روکنا برابر جاری ہو تو اس معاشرے میں بُرے افراد اور سماج دشمن عناصر پنپ نہیں سکیں گے، نتیجے میں معاشرہ صالح ہوگا، بچوں کیلئے نیک ساتھی اوربھلائیوں پر تعاون کرنے والے دوست واحباب میسر آئیں گے، جنکی صحبت سے امید کی جاسکتی ہے کہ بچے نیک اور صالح ہونگے۔ لیکن افسوس آج امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ برائیوں سے بھرگیا، بُرے اور سماج دشمن عناصر غالب، اور نیک لوگ مغلوب ہوگئے ہیں، ایسے حالات میں والدین کا اوّلین فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ماحول ومعاشرے کے بُرے اثرات سے بچانے کی ممکن حد تک کوشش کریں۔ والدین کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ اپنے گھر، اور بچوں کے سکول وکالج اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں، اگر یہ تینوں جگہیں ٹھیک ہیں تو اﷲ تعالیٰ کا شُکر ادا کریں،