کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 313
لئے ضروری ہے کہ وہ صحیح منہج اور فکرِ سلیم سے متصف ہو، اگر کوئی تعلیم ان اوصاف سے متصف نہیں تو پھر یہ بنی نوع انسانیت کے لئے زہر ہلاہل ہوگی۔ غیر اسلامی افکار، ملحدانہ نظریات، اور مجنونانہ تھیوریوں سے جو تعلیم متعلق ہوگی وہ " اے روشنیء طبع تو بر من بلا شدی"کے مصداق بچوں پر بلائے قہرمان ہوگی اور افسوس کہ آج اکثر حکومتوں کی تعلیم سرمایہ دارانہ نظریات، یا کمیونسٹ افکار، یا شوشلزم اور جمہوریت کی دعوت پر مشتمل ہے، اور ان تمام افکار ونظریات کا اسلام سے دور دور تک کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظریات بُخل وحرص پر مشتمل ہیں، جس میں ہر صحیح یا غلط طریقے سے دولت کا حصول ہی بنیادی حیثیت رکھتا ہے،ملکوں اور قوموں کے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں اپنا محتاج بلکہ غلام بنا کر رکھنا ان ممالک کا خاص شغل ہے، امریکہ اور برطانیہ اور ان کے حلیف ممالک کی تمام تر فوجی کاروائیاںصرف اسی کیلئے ہی ہیں۔ کمیونزم اور اشتراکیت حسد وبغض پر مشتمل ہے، جس سے مالداروں اور غریبوں کے درمیان کشمکش کو "جہاد"کا درجہ حاصل ہے،لیکن یہ بھی صرف کہنے کی حد تک ہی ہے حقیقت میں کمیونزم مالی حرص وہوس میں سرمایہ دارانہ ممالک سے میلوں آگے ہے۔ جمہوریت میں قوم پرستی کو اوّلین مقام حاصل ہے، اندھی قوم پرستی جس میں سوائے اپنے تمام اقوام کو کم تر سمجھاجائے،اوریہ یرقانی نظریات فرد اور معاشرے میں تعصّب وتنگ نظری، ضد اور ہٹ دھرمی کو جنم دیتے ہیں۔اور حقیقت میں کوئی قوم کسی ایک خاص ملک میں پیدا ہونے کی وجہ سے عظیم نہیں بنتی بلکہ اس کا عمل اسے عظیم بناتا ہے۔اور اس طرح کے تمام اصول ونظریات کو تاریخ اور انسانی معاشرے نے